ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

طالبعلم نے توہین رسالت کا الزام لگا کر پرنسل کو قتل کردیا،پرنسپل نے آخر ایسا کیا کیاتھا،حقیقت سامنے پر طوفان برپا

datetime 23  جنوری‬‮  2018 |

چارسدہ (مانیٹرنگ ڈیسک)شبقدر میں توہین رسالت کا الزام لگا کر سکنڈائیر کے طالبعلم نے پرنسپل کو قتل کر دیا ۔ ایف سی اہلکاروں نے ملزم کو آلہ قتل سمیت گرفتار کر لیا ۔ طلبہ اور عوام سراپا احتجاج بن گئے۔ توہین رسالت کے حوالے سے ابھی تک کوئی مصدقہ شواہد موجود نہیں ۔ ڈی پی او ۔ تفصیلات کے مطابق شبقدر میں مٹہ روڈ پر واقع نیو اسلامیہ پبلک ہائی سکول اینڈ کالج میں پڑھنے والے سیکنڈر آئیر کے طالب علم فہیم اشرف نے سکول کے اندر اندھا دھندفائرنگ کرکے پرنسپل سریر احمد کو قتل کر دیا ۔

ملزم کو ایف سی اہلکاروں نے جائے وقوعہ سے اسلحہ سمیت گرفتار کر کے شبقدر پولیس کے حوالے کر دیا۔ گرفتاری کے وقت ملزم نعرے لگا رہا تھا کہ انہوں نے توہین رسالت ﷺ کے مرتکب کو انجام تک پہنچایا ہے مگر دوسری طرف ذرائع کا کہنا ہے کہ مجروح پرنسپل سریر احمد صوم وصلاۃ کے پابند تھے اور انہوں نے پشاور یونیورسٹی سے ایم اے اسلامیات کی ڈگری حاصل کی ہے جبکہ مقتول حافظ قرآن بھی تھے ۔ ملزم کی طرف سے توہین رسالتﷺ کے حوالے سے الزامات میں کوئی صداقت نہیں ۔ پرنسپل سریر احمد کے بہمانہ قتل کے خلاف شبقدر میں عوام اور طلبہ سڑکوں پر نکل آئے اور ٹریفک کا نظام درہم برہم کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق ملزم فہیم اشرف گزشتہ دنوں تحریک لبیک کے زیر اہتمام توہین رسالت ﷺکے حوالے سے منعقدہ خادم حسین رضوی کے فیض آباددھرنے میں شرکت کیلئے گئے تھے اور کالج سے غیر حاضری پر انتظامیہ نے معمول کے مطابق ان کو غیر حاضر کیا تھا جس کا ملزم کو دکھ تھا اور اس حوالے سے پرنسپل سے کچھ روز پہلے بھی ملزم کی تو تکار ہوئی تھی ۔ اس حوالے سے ڈی پی او چارسدہ کا کہناہے کہ توہین رسالت کے حوالے سے تاحال کوئی تصدیق نہیں ہوئی ۔گرفتار ملزم سے تفتیش جاری ہے اور بہت جلد اصل حقائق سامنے آئینگے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…