ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

ترکی نے امریکہ سے ٹکر لے لی،اہم اسلامی ملک میں امریکی حمایت یافتہ جنگجوؤں کے خلاف کارروائی شروع،شدید بمباری جاری،دھماکہ خیز اعلان

datetime 21  جنوری‬‮  2018 |

انقرہ (مانیٹرنگ ڈیسک) ترکی کی فوج نے کہاہے کہ اس کے جنگی طیاروں نے شام کے شمال میں کالعدم کردستان ورکرز پارٹی سے منسلک کرد ملیشیا کے ٹھکانوں پر فضائی حملے شروع کر دیے ہیں۔ترکی شام کے علاقے عفرین سے کرد جنگجوؤں کا انخلا چاہتا ہے جو کہ سنہ 2012 سے کردوں کے کنٹرول میں ہے۔واضح رہے کہ ترکی نے اس سے پہلے کردوں کے خلاف ایک مکمل فوجی آپریشن کی دھمکی بھی دی تھی۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے ایک بار پھر کرد افواج کی شام میں موجودگی کی مذمت کرتے ہوئے اسے علیحدگی پسند کرد تنظیم پی کے کے کا لازمی جز قرار دیا۔ترکی کے سرکاری میڈیا کے مطابق شام کے علاقے عفرین پر صوبے ہیٹے سے بمباری کی گئی۔ترکی کے وزیرِ دفاع نے کہا کہ شام کے شمال میں کرد ملیشیا کے خلاف بمباری عفرین پر چڑھائی کرنے کے منصوبہ کا آغاز ہے۔ادھر شام نے ترکی کی جانب سے کسی بھی قسم کی کارروائی پر ترکی کے طیاروں کو مار گرانے کی دھمکی دی ہے۔ادھر وائی پی جی کا کہنا تھا کہ عفرین میں رات بھر میں 70 گولے داغے گئے۔عفرین میں سیئرین ڈیموکریٹک کونسل کے رہنما نے بتایا کہ عفرین پر کی جانے والی گولہ باری کے بعد شہری محفوظ پناہ تلاش کرتے رہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ جب عفرین پر گولہ باری جاری تھی تو اس وقت عام شہری، خواتین اور بچے اپنے گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہو گئے یہاں تک کہ وہ گولہ باری ختم ہونے تک محفوظ پناہ گاہوں کو تلاش کرتے رہے۔دریں اثناء ترکی کی جانب سے شام کے شمالی علاقے عفرین میں کرد ملیشیا کے خلاف فوجی مداخلت کے حوالے سے امریکی اور روسی وزراء خارجہ نے ٹیلیفون پر بات چیت کی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق روسی وزیرخارجہ سیرگی لافروف نے ٹیلی فون پر اپنے امریکی ہم منصب ریکس ٹیلرسن سے بات چیت کی۔ اس موقع پر دونوں رہ نماؤں نے ترک فوج کی عفرین میں کرد ملیشیا کے خلاف فوجی کارروائی اور اس کے مضمرات پر تبادلہ خیال کیا۔

روسی وزارت خارجہ کی ویب سائیٹ پر پوسٹ ایک بیان میں کہا گیا کہ وزیرخارجہ لافروف نے اپنے امریکی ہم منصب ریکس ٹیلرسن سے بات چیت کی۔ دونوں رہ نماؤں کے درمیان شام کی تازہ ترین صورت حال بالخصوص شمالی شام میں قیام امن اور ترکی کی فوجی مداخلت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔دونوں رہ نماؤں نے شام کے تنازع کے حل کے لیے اقوام متحدہ کی زیرنگرانی امن مساعی تیز کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ نے جنوری کے آخر میں روسی شہر سوچی میں شام کے حوالے سے ہونے والی کانفرنس کو نتیجہ خیز بنانے سے اتفاق کیا۔قبل ازیں روس نے شمالی شام میں ترک فوج کی مداخلت پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ دوسری جانب ترکی کالعدم کردستان لیبر پارٹی کے مقرب شامی عسکری گروپوں پروٹیکشن یونٹس اور ڈیموکریٹک فورسز کو دہشت گرد قرار دے کر ان کے خلاف نبرد آزما ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…