ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

انتظار احمد اور نقیب اللہ کے بعد کراچی پولیس کا ایک اور کارنامہ،شارع فیصل پر مقابلے میں ڈاکو صرف زخمی ،پانچ بہنوں کے اکلوتے بھائی کو مارڈالاگیا

datetime 20  جنوری‬‮  2018 |

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) انتظار احمد اور نقیب اللہ کے بعد کراچی پولیس کا ایک اور کارنامہ، شارع فیصل پر مقابلے میں ڈاکو صرف زخمی ہوئے، عام شہری مارا گیا۔مقصود کی بہنوں کا کہنا ہے کہ دونوں مجرم زندہ ہیں ، اکلوتے بھائی کو مارڈالا، ایس ایچ او علی حسن مقتول مقصود کے بارے میں متضاد باتیں کرتے رہے، پہلے کہا کہ مقصود ڈاکوؤں کا ساتھی تھا ، بعد میں کہا رکشہ ہائی جیک ہوا تھا۔پانچ بہنوں کے اکلوتے بھائی کو کیوں مارا گیا اور اصل ڈاکو زندہ کیسے بچ گئے،

کراچی کے جناح اسپتال میں ستائیس سالہ مقصود کی بہنیں یہی جواب تلاش کرتی رہیں ۔درزی کا کام کرنے والا مقصود شارع فیصل پر پولیس مقابلے کے دوران مارا گیا جس میں دو اصل ڈاکو زندہ رہے، ایک فرار ہوا اور ڈاکووں کے ہاتھوں ہائی جیک ہونے والے رکشے میں سوار شہری گولیوں کا نشانہ بن گیا ۔واقعے کے بارے میں ایس ایچ او شارع فیصل علی حسن نے پہلے مقتول مقصود کو ڈاکووں کا ساتھی قرار دیا مگر بات بنائے نہ بننا شاید اسے ہی کہتے ہیں کہ اگلے ہی جملے میں ایس او شارع فیصل یہ کہہ گئے کہ جس رکشے میں مقصود سوار تھا وہ تو ڈاکووں نے ہائی جیک کر لیا تھا۔اکلوتے جوان بھائی کی میت دیکھ کر غم سے نڈھال بہنوں نے اپنی بے بسی کا اظہار مقصود کی موت کا سبب بننے والے ڈاکوؤں پر غصہ اتار کر کیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ زخمی حالت میں گرفتار ہونے والے ڈاکوؤں نے گزشتہ چند دنوں میں کئی وارداتیں کی تھیں ۔شارع فیصل پولیس مقابلے میں جاں بحق مقصود کی 25 دن بعد شادی تھی، مقصود کی بہن کا کہنا ہے کہ میت لینے پہنچے تو ایس ایچ او نے کہا کہ تمہارا بھائی ڈاکو تھا ، پولیس نے پہلے دہشت گرد کہا ، پھر ڈاکو کہا اور اب کہا کہ ڈاکوؤں کی فائرنگ سے مارا گیا ۔مقصود کی بہنوں نے کہاکہ ان کا بھائی ڈاکو نہیں تھا ، درزی کا کام کرتا تھا ۔مقصود کے ساتھ رکشے میں سوار مسافرنے بتایاکہ دو آدمیوں نے رکشا روکا ، وہ چیخ رہے تھے کہ والد بیمار ہیں، پھر فائرنگ کی آوازیں آئیں اور رکشا الٹ گیا۔مسافرنے کہاکہ اس نے چیخ کر پولیس کو بتایا کہ وہ مسافر ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…