ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

پورا پاکستان بیٹے کی گواہی دے رہا ہے،آرمی چیف انصاف دلائیں،نقیب اللہ محسود کے والد کی اپیل

datetime 19  جنوری‬‮  2018 |

کراچی(این این آئی) کراچی کے علاقے شاہ لطیف ٹائون میں مبینہ پولیس مقابلے میں مارے جانے والے نوجوان نقیب اللہ محسود کے والد نے کہا ہے کہ میرا بیٹا بے گناہ تھا اس بات کی گواہی پورا پاکستان دے رہا ہے، آرمی چیف اور وزیر اعظم انصاف دلوائیں۔تفصیلات کے مطابق 13 جنوری کو ایس ایس پی ملیر رائو انوار کی سربراہی پولیس نفری نے خطرناک دہشت گردوں کی گرفتاری کے لیے شاہ لطیف ٹائون میں چھاپا مارا تو اسی دوران مسلح افراد نے

فائرنگ کردی۔پولیس کی جوابی فائرنگ سے چار نوجوان ہلاک ہوئے جن میں سے ایک نقیب اللہ محسود بھی تھا، نوجوان کی ہلاکت کے تین روز بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر نقیب کی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے مہم کا آغاز کیا گیا۔مقتول کے دوستوں اور قریبی رشتے داروں نے دعوی کیا کہ نقیب کپڑے کا کاروبار کرنے کی غرض سے کراچی آیا اور اسے سی ڈی ٹی نے سہراب گوٹھ سے 3جنوری کو گرفتار کیا تھا جبکہ ایس ایس پی ملیر رائو انوارنے دعویٰ کیا کہ مقابلے میں مارا جانے والا شخص تحریک طالبان کا اہم کارندہ تھا۔ایس ایس پی ملیر نے یہ بھی دعوی کیا کہ انٹیلی جنس اطلاعات کے مطابق نقیب نے جنوبی وزیرستان میں تحریک طالبان کے امیر بیت اللہ محسود کو بطور ڈرائیور اپنی خدمات پیش کیں اور آرمی آپریشن شروع ہونے کے بعد وہ فرار ہوکر کراچی آگیا۔پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والے نوجوان کا نمازِ جنازہ جمعہ کو ڈیرہ اسماعیل خان میں ادا کی گئی بعدازاں جسد خاکی آبائی علاقے روانہ کردی گئی جہاںنقیب اللہ محسود کی تدفین کی گئی۔نقیب اللہ محسود کے والدنے کہاکہ میرا بیٹا بے گناہ تھا اسے پولیس نے گرفتار کرکے 14 دن تک لاپتہ رکھا، اگر وہ کسی جرم میں ملوث تھا تو عدالت کے سامنے پیش کیا جاتا مگر اسے جعلی مقابلے میں مار دیا گیا۔والد نے آرمی چیف اور وزیر اعظم سے انصاف کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ پورا پاکستان بیٹے کے لیے گواہی دے رہا ہے، پولیس مقابلہ کرنے والے اہلکاروں کو سخت سزا دی جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…