ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

اغوا کے بعد زینب کو کس گھر میں جنسی درندگی کا نشانہ بنایا گیا، پراپرٹی ڈیلر نے کتنے پیسوں کے عوض مکان درندہ صفت قاتل کو دیاتھا، پڑوسی خاتون نے ایجنسیوں کو فون پر اطلاع دے ڈالی، تہلکہ خیز انکشافات سامنے آگئے‎

datetime 18  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد،قصور(مانیٹرنگ ڈیسک،این این آئی) زینب قتل کیس میں اہم پیشرفت، پڑوسی خاتون نے فون کر کے سکیورٹی ایجنسیوں کو سب کچھ بتا دیا۔نجی ٹی وی سچ نیوز کے  مطابق  وہ مکان مل گیا ہے جس میں زینب کو اغواءکے بعد رکھا گیا۔نجی ٹی وی کی رپورٹس کے مطابق مذکورہ گھر کی تصاویر انتہائی معتبر ذرائع سے حاصل کی گئی ہیں جن کے مطابق اس مکانکو دینے والے شیخ نامی پراپرٹی ڈیلر کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔

مذکورہ پراپرٹی ڈیلر نے صرف پیسے کے لالچ میں یہ مکان لاہور کی ایک پارٹی کو دیا اور 25 ہزار روپے ایڈوانس  میں بھی وصول کئے۔اس معاملے پر محلے کی ایک عورت نے سیکیورٹی ایجنسیز کو فون کر اطلاع دی کہ زینب کو اس مکان میں رکھا گیا تھا۔ گرفتار پراپرٹی ڈیلر سے تفتیش کی جا رہی ہے کہ اس نے یہ مکان کسے، کیسے اور کن شرائط پر دیا اور یہاں رہنے والوں کی تفصیلات اس سے حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ پولیس کی تحویل میں پراپرٹی ڈیلر سے تفتیش کے دوران اس معاملے پرکیا پیش رفت ہوتی ہے؟واضح رہے کہ اس سے پہلے بھی زینب کے قاتل کی مبینہ گرفتاری کی خبریں میڈیا پر چلتی رہی ہیں لیکن اب تک کوئی مصدقہ اعلان سامنے نہیں آسکا ہے۔دریں اثنا زینب کے والدحاجی محمدامین ا نصاری نے کہاہے کہ ہمیں پولیس پر اعتماد نہیں ،چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاویدباجوہ سے اپنی بیٹی کے کیس میں انصاف کے حصول کا مطالبہ کیا۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ ہمیں پولیس پر اعتماد نہیں ہے اسلئے ہم نے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاویدباجوہ سے اپنی بیٹی کے کیس میں انصاف کے حصول اور ملزم کی گرفتاری کا مطالبہ کیاہے ‘پولیس اگر اتنی فرض شناس ہوتی تو ہماری بیٹی کیساتھ آنے والے المناک

واقعہ سے پہلے زیادتی کی مرتکب معصوم   جانو ں کے قاتلوں کو گرفتار کرکے عبرت ناک سزا دی جاچکی ہوتی۔انہوں نے کہا کہ جس طرح ہم اپنی بیٹی کیساتھ ہونیوالے سانحہ پر آنسو بہارہے ہیں پوری قوم کا ہماری بیٹی کیساتھ ہونیوالے المناک سانحہ پر ملزم کی گرفتاری کیلئے سڑکوں پر نکل کر احتجاج کرنے پر میں پوری قوم کا شکرگزارہوں۔انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کا کام ہوتاہے کہ وہ مظلوم عوام کے زخموں پر مرہم رکھ کر ان کو حوصلہ دیتے

ہیں تاہم صوبائی وزیر قانون نے ہمارے ساتھ آنے والے واقعہ کا جس طریقے سے میڈیا پر مذاق اڑایا اس سے ایسامحسوس ہوتاہے کہ غریب کی بیٹی کی عزت کی اس ملک میں کوئی قیمت نہیں ہے۔واضح رہے کہ ننھی زینب کے قتل کو کئی دن گزر جانے کے باوجود حکومت سرتوڑ کوششوں کے باوجود اس کے قاتل کو گرفتار نہیں کر سکی ہے جبکہ غمزدہ خاندان نہ پنجاب پولیس بلکہ حکمرانوں کے رویوں پر بھی شاکی نظر آتا ہے۔ اس سے قبل بھی زینب کے والد  پنجاب پولیس پر اپنے تحفظات کا اظہارکر چکے ہیں۔ زینب قتل کیس میں قصور پولیس کی نا اہلی، نا لائقی اور رشوت ستانی کی شکایت بھی کھل کر منظر عام پر آچکی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…