ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

قصور میں زیادتی کے بعد قتل ہونیوالی معصوم زینب کو بچایا جا سکتا تھا، اس کی موت کب کہاں اور کیسے ہوئی؟ تفتیشی ٹیم کی رپورٹ منظر عام پر آ گئی، لرزہ خیز انکشافات

datetime 15  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) قصور میں سات سالہ زینب کو زیادتی اور قتل کرنے کے بعد کچرے کے ڈھیر پر پھینک دیا گیا، اس افسوسناک واقعہ کی تفتیشی ٹیم کی جانب سے رپورٹ سامنے آئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سات سالہ معصوم زینب کی موت کوڑے پر پھینکے جانے کے کئی گھنٹے بعد ہوئی، زینب قتل کیس میں ایک ہزار افراد سے تحقیقات کا عمل ابھی جاری ہے، ایک نجی ٹی وی چینل نے کہا ہے کہ تفتیشی ٹیم نے زینب قتل کیس کی رپورٹ تیار کر لی ہے اور اسے عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ اس تفتیشی

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملزم اکیلا کارروائی کرتا رہا اب تک کسی منظم گروہ کے بارے میں کوئی شواہد نہیں ملے ہیں۔ اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ شواہد اکٹھا کرنے کے لیے 30 مختلف ٹیمیں کام کر رہی ہیں اور اس کیس کے حوالے سے سو افراد کے ڈی این اے ٹیسٹ بھی لیے جا چکے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملزم بچیوں کو گردن پر چوٹ لگانے کے بعد ویران جگہ پر پھینک دیتا تھا اور زیادہ بچیوں کی ہلاکت بعد میں ہوئی ہے۔ زینب کی موت کوڑے پر پھینکے جانے کے کئی گھنٹے بعد ہوئی

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…