ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

زینب قوم کی بیٹی تھی ،واقعہ پر پوری قوم کا سرشرم سے جھک گیا،چیف جسٹس

datetime 11  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ میں الرازی میڈیکل کالج سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے قصور میں زینب کے قتل پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ زینب قوم کی بیٹی تھی، واقعہ پر پوری قوم کا سر شرم سے جھک گیا، مجھ سے زیادہ میری اہلیہ گھر میں پریشان بیٹھی ہے۔ تکبر ایک ناسور اور جج کی موت ہے، جج میں تکبر آجائے تو وہ جج نہیں رہتا، وکلاء سے ہاتھ جوڑ کر درخواست کرتا ہوں کہ تشدد کا پہلو چھوڑ دیں،

آج عدالتوں میں وکلاء کو ہڑتال نہیں کرنی چاہیے تھی۔ جمعرات کو الرازی میڈیکل کالج سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس میں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس مشیر عالم اور جسٹس سجاد علی شاہ پر مشتمل بنچ نے کی، کیس کی سماعت شروع ہوئی تو چیف جسٹس نے کہا کہ آج وکلاء نے ہڑتال کس لیے کی ہے، جس پر اعتزاز احسن نے کہا کہ سانحہ قصور کیخلاف ہڑتال کی جا رہی ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ زینب قوم کی بیٹی تھی، واقعہ پر پوری قوم کا سر شرم سے جھک گیا، مجھ سے زیادہ میری اہلیہ گھر میں پریشان بیٹھی ہے، دکھ اور اور سوگ اپنی جگہ لیکن ہڑتال کی گنجائش نہیں بنتی ، چیف جسٹس نے کہا کہ تشدد روکنا آپ وکلاء کی ذمہ داری ہے، میں تو ہاتھ باندھ کر کہ رہا ہوں کہ تشدد نہ کیا کریں، اعتزاز احسن نے کہا کہ ہڑتال احتجاج کرنے والوں پر فائرنگ کیخلاف کی جا رہی ہے، چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اعتزاز احسن نہ ہوتے تو وکلاء تحریک نہ چلتی، اعتزاز احسن کو بطور قانون ساز اب وہی کردار ادا کرنا ہوگا، چیف جسٹس نے کہا کہ صحت اور عدلیہ میں اصلاحات کیلئے کردار ادا کرنا ہوگا،اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ عدلیہ تحریک کے منفی پہلو بھی سامنے آئے ہی، پرتشدد وکلاء اور مغرور ججز عدلیہ تحریک کا نتیجہ ہیں، اس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ دعا کریں غرور ہمارے

لیے موت کا باعث بنے، تکبر جج کی موت ہے، ججز کو کسی صورت مغرور نہیں ہونا چاہیے، بعد ازاں عدالت نے فریقین کے وکلاء کوانسپکشن ٹیم کیلئے تین تین نام دینے کی ہدایت کرتے ہوئے خیبر میڈیکل یونیورسٹی کو داخلہ ٹیسٹ کے نتائج جاری کرنے کی اجازت دیدی ہے جبکہ عدالت نے کیس کی مزید سماعت سولہ جنوری تک ملتوی کردی، یاد رہے کہ قصور میں آٹھ سالہ کمسن بچی کو اغواء کے بعد زیادتی کر کے قتل کردیا گیا تھا اور نعش کو کچرے کے ڈھیر میں پھینک دیا گیا تھا، چیف جسٹس نے اس معاملے پر ازخودنوٹس لے کر آئی جی پنجاب سے رپورٹ بھی طلب کر رکھی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…