اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

قصور میں درندگی کا مسلسل گیارہواں واقعہ،10بچیاں قتل ہوگئیں صرف ایک ہی بچی زندہ بچی ہے ،وہ اب کس حال میں ہے؟تمام واقعات کا مجرم ایک ہی ہے،پہلا واقعہ کتنا عرصہ قبل ہواتھا؟ جاوید چودھری کے انکشافات‎

datetime 10  جنوری‬‮  2018 |

پچھلے سال ایران کے شہر پارس آباد میں سات سال کی ایک بچی اتینہ زیادتی کے بعد قتل کر دی گئی ‘ بچی کا والد کپڑے کا تاجر تھا‘ بچی والد کی دکان سے باہر نکلی‘ پانی پینے کیلئے والد کے ایک دوست کی دکان پر گئی اور غائب ہو گئی‘ والد بچی کی گم شدگی کو اغواء کا واقعہ سمجھتا رہا لیکن جب بازار کی سی سی ٹی وی فوٹیج نکالی گئی تو بچی اسماعیل جعفر زادے کی دکان میں داخل ہوتی ہوئی نظر آئی‘ پولیس آئی‘ تفتیش ہوئی اور بچی کی لاش دکان کی پارکنگ لاٹ سے مل گئی‘

ملک میں احتجاج شروع ہو گیا‘ یہ واقعہ 19 جون کو پیش آیا‘ 20 جون کو مجرم گرفتار ہوا‘ عدالت نے اسے 11 ستمبر کو سزا سنائی اور حکومت نے 20 ستمبر کو مجرم کو ہزاروں لوگوں کے سامنے پھانسی دے دی‘ سزا کا یہ سارا عمل تین ماہ میں مکمل ہوا اور مجرم کو عبرت کی نشانی بھی بنا دیا گیا‘ یہ کہانی قصور کی سات سالہ بچی زینب سے ملتی جلتی ہے‘ زینب چار جنوری کو قرآن مجید پڑھنے کیلئے خالہ کے گھر کیلئے نکلی اور راستے میں غائب ہو گئی‘ واقعے کے دوسرے دن پولیس کو سی سی ٹی وی فوٹیج دے دی گئی‘ پولیس چار دن تک بچی تک نہ پہنچ سکی‘ کل بچی کی لاش کوڑے کے ڈھیر سے ملی‘ بچی کو قتل سے پہلے کئی بار زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا‘ بچی کے والدین عمرے کیلئے سعودی عرب گئے ہوئے تھے‘ آج اس واقعے کے بعد قصور میں ہنگامے پھوٹ پڑے‘ مشتعل ہجوم نے ڈی پی او آفس پر حملہ کر دیا‘ پولیس نے گولی چلا دی‘ دو لوگ جاں بحق اور ایک زخمی ہوگیا‘ یہ قصور میں اس نوعیت کا بارہواں واقعہ ہے‘ شہر سے اس سے قبل گیارہ بچیاں اغواء ہو چکی ہیں ‘ ہوس کا نشانہ بن چکی ہیں‘ ان میں سے دس قتل ہو چکی ہیں صرف ایک بچی کائنات کی جان بچ گئی لیکن یہ بھی ذہنی طور پر معذور ہو چکی ہے‘ مرحوم بچیوں کے جسم سے ایک ہی شخص کے ڈی این اے مل رہے ہیں لیکن پولیس ڈیڑھ سال میں مجرم تک نہیں پہنچ سکی۔ ہم اگر آج کے ہنگاموں کو دیکھیں تو پتہ چلتا ہے ہمارے لوگوں کو بھی یہ معلوم نہیں کہ تھانے پر حملے‘

پتھراؤ اور گاڑیوں کو آگ لگانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا ‘ احتجاج کے اس سے بہتر طریقے بھی موجود ہیں اور پولیس کو بھی یہ اندازہ نہیں کہ ایسے حالات میں ہجوم کو کیسے کنٹرول کیا جاتا ہے‘ یہ براہ راست گولی چلا دیتی ہے‘ پولیس نے ایسا کیوں کیا؟ اس کا جواب آج عمران خان نے دیا، پولیس کیسے بہتر ہو سکتی ہے‘ زینب جیسی بچیوں کی حفاظت کیسے ہو سکتی ہے‘ والدین کیا کر سکتے ہیں‘ استاد اور معاشرہ کیا کر سکتا ہے اور اگر ایسا واقعہ ہو جائے تو پولیس مجرم تک کیسے پہنچ سکتی ہے‘ یہ ہمارا آج کا ایشو ہو گا‘ ہمارے ساتھ رہیے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…