اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

معصوم زینب کو زیادتی کے بعد قتل کرنیوالا کون نکلا رانا ثنا کا دعویٰ سامنے آگیا، قاتل کو سر عام پھانسی کا مطالبہ

datetime 10  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) صوبائی وزیر قانون رانا ثنا اللہ نے قصور واقعہ کو قابل مذمت قرار دیتے ہوئے اس میں ملوث ملزمان کو جلد گرفتار کرنے کا اعلان کیا۔ نجی ٹی وی چینل سے گفتگو میں صوبائی وزیر قانون نے کہا

کہ بچی کے اغوا کے بعد ہی سے پولیس نے بچی کی تلاش شروع کر دی ۔ ملزم کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کر لی گئی ہے جس کی مدد سے ملزم کا خاکہ تیار کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جس طرح بچی کو سی سی ٹی وی فوٹیج میں ملزم کے ساتھ جاتے ہوئے دیکھا گیا ہے ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ملزم بچی کا کوئی قریبی رشتہ دار، جاننے والا یا محلے دار تھا۔ انہوں نے کہا کہ ملزمان کو کیفر کردار تک ضرور پہنچایا جائے گا۔دوسری جانب قصور میں معصوم کمسن بچی زینب کے ساتھ زیادتی کے بعد قتل کے ایک اور واقعے نے پورے ملک سمیت پاکستان کے سیاستدانوں کو بھی ہلا کررکھ دیا۔ زینب 5 روز قبل سپارہ پڑھنے گھر سے نکلی تھی کہ لاپتہ ہوگئی، گزشتہ رات بچی کی لاش کوڑے کے ڈھیر سے ملی۔ لاش ملنے کے ساتھ ہی لوگوں میں شدید غم وغصہ پھیل گیااور لوگوں نے احتجاج کرتے ہوئے ملزم کو کڑی سزا دینے کا مطالبہ کردیا۔ سوشل میڈیا پر بچی کے اغوا اور قتل کے خلاف شدید ردعمل کا اظہار کیا جارہا ہے اور ’زینب کے لیے انصاف‘کے نام سے ہیش ٹیگ ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ کررہا ہےجس میں صارفین کی جانب سے درندہ صفت قاتل کو سرعام پھانسی پر لٹکانے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…