جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

کلبھوشن یادیو کی والدہ اور اہلیہ کے ساتھ آنے والا بھارتی سفارت کار ان پر کیوں چیخا؟ پاکستانی حکام نے کیا مثبت اقدام کیا؟

datetime 4  جنوری‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو نے اپنے اہلخانہ کیساتھ ہتک آمیز رویہ رکھنے ،دھمکیاں دینے پر بھارتی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ میرا کمیشن ختم نہیں ہوا، اب بھی بھارتی نیوی کا افسر ہوں، اپنی ماں اور اہلیہ کی آنکھوں میں خوف دیکھا، بھارتی سفارتکار نے والدہ اور بیوی کو دھمکیاں دیں،اپنی ماں اور اہلیہ کی آنکھوں میں خوف دیکھا ہے، ایسا لگ رہا تھا جیسے ان کیساتھ راستے میں مار پیٹ کی گئی ہے۔

اہل خانہ سے ملاقات کرانے پر حکومت پاکستان کا مشکور ہوں۔ جمعرات کو دفتر خارجہ کی جانب سے بھارتی جاسوس کمانڈر کلبھویشن یادیو کی جانب سے ایک ویڈیو بیان جاری کیا گیا ہے جس میں کلھبوشن یادیو نے اپنے اہلخانہ کیساتھ ہتک آمیز رویہ رکھنے اور دھمکیاں دینے پر بھارتی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ میں اب بھی بھارتی نیوی کا افسر ہوں، انہوں نے کہا کہ میں بھارتی حکومت اور عوام کو بتانا چاہتا ہوں کہ میرا کمیشن ختم نہیں ہوا، میں بھارتی نیوی کا کمیشنڈ آفیسر ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میرے انٹلیجنس ایجنسی کیلئے کام کرنے کو کیوں جھٹلایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے ملاقات کے دوران اپنی والدہ اور اہلیہ کی آنکھوں میں خوف دیکھا اور وہ سہمی ہوئی تھیں، ان کے ساتھ ایسا کیا ہوا، ان کی آنکھوں میں خوف اور ڈر نہیں ہونا چاہئے تھا۔انہوں نے کہا کہ میری والدہ اور اہلیہ کیساتھ آنیوالا بھارتی سفارتکار ملاقات ختم ہونے کے بعد ان پر چیخا وہ انہیں ملاقات پر دھمکا رہا تھا ۔ کلبھوشن نے کہا کہ میری فیملی کو ڈرا کر یہاں تک لایا گیا۔ یہ تو ایک مثبت اقدام تھا، میں خوشی محسوس کر رہا تھا، ان کو بھی خوش ہونا چاہئے تھا مگر میری ماں خوف کی حالت میں تھیں، مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے ان کے ساتھ راستے میں جہاز میں مار پیٹ کی گئی ہے۔ کلبھوشن یادیو نے کہا کہ پاکستان میں مجھے کسی قسم کے تشدد کا نشانہ نہیں بنایا گیا جبکہ والدہ بھی صحتمند دیکھ کر خوش ہوئی ہیں۔ کلبھوشن یادیو نے کہا کہ اہل خانہ سے ملاقات کی اجازت دینے پر حکومت پاکستان کا شکر گزار ہوں۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…