اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

کلبھوشن یادیو کی والدہ اور اہلیہ کے ساتھ آنے والا بھارتی سفارت کار ان پر کیوں چیخا؟ پاکستانی حکام نے کیا مثبت اقدام کیا؟

datetime 4  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو نے اپنے اہلخانہ کیساتھ ہتک آمیز رویہ رکھنے ،دھمکیاں دینے پر بھارتی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ میرا کمیشن ختم نہیں ہوا، اب بھی بھارتی نیوی کا افسر ہوں، اپنی ماں اور اہلیہ کی آنکھوں میں خوف دیکھا، بھارتی سفارتکار نے والدہ اور بیوی کو دھمکیاں دیں،اپنی ماں اور اہلیہ کی آنکھوں میں خوف دیکھا ہے، ایسا لگ رہا تھا جیسے ان کیساتھ راستے میں مار پیٹ کی گئی ہے۔

اہل خانہ سے ملاقات کرانے پر حکومت پاکستان کا مشکور ہوں۔ جمعرات کو دفتر خارجہ کی جانب سے بھارتی جاسوس کمانڈر کلبھویشن یادیو کی جانب سے ایک ویڈیو بیان جاری کیا گیا ہے جس میں کلھبوشن یادیو نے اپنے اہلخانہ کیساتھ ہتک آمیز رویہ رکھنے اور دھمکیاں دینے پر بھارتی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ میں اب بھی بھارتی نیوی کا افسر ہوں، انہوں نے کہا کہ میں بھارتی حکومت اور عوام کو بتانا چاہتا ہوں کہ میرا کمیشن ختم نہیں ہوا، میں بھارتی نیوی کا کمیشنڈ آفیسر ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میرے انٹلیجنس ایجنسی کیلئے کام کرنے کو کیوں جھٹلایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے ملاقات کے دوران اپنی والدہ اور اہلیہ کی آنکھوں میں خوف دیکھا اور وہ سہمی ہوئی تھیں، ان کے ساتھ ایسا کیا ہوا، ان کی آنکھوں میں خوف اور ڈر نہیں ہونا چاہئے تھا۔انہوں نے کہا کہ میری والدہ اور اہلیہ کیساتھ آنیوالا بھارتی سفارتکار ملاقات ختم ہونے کے بعد ان پر چیخا وہ انہیں ملاقات پر دھمکا رہا تھا ۔ کلبھوشن نے کہا کہ میری فیملی کو ڈرا کر یہاں تک لایا گیا۔ یہ تو ایک مثبت اقدام تھا، میں خوشی محسوس کر رہا تھا، ان کو بھی خوش ہونا چاہئے تھا مگر میری ماں خوف کی حالت میں تھیں، مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے ان کے ساتھ راستے میں جہاز میں مار پیٹ کی گئی ہے۔ کلبھوشن یادیو نے کہا کہ پاکستان میں مجھے کسی قسم کے تشدد کا نشانہ نہیں بنایا گیا جبکہ والدہ بھی صحتمند دیکھ کر خوش ہوئی ہیں۔ کلبھوشن یادیو نے کہا کہ اہل خانہ سے ملاقات کی اجازت دینے پر حکومت پاکستان کا شکر گزار ہوں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…