اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

شریف فیملی کی اہم شخصیت کوچار ساتھیوں سمیت گرفتارکرلیاگیا،انتہائی افسوسناک وجہ سامنے آگئی

datetime 2  جنوری‬‮  2018 |

لاہور((نیوزڈیسک) شریف فیملی کی اہم شخصیت کوچار ساتھیوں سمیت گرفتارکرلیاگیا،انتہائی افسوسناک وجہ سامنے آگئی،تفصیلات کے مطابق لاہور کے علاقہ ڈیفنس میں نیو ائیر نائٹ پر کار کی ٹکر سے ناکے پر کھڑا ایک پولیس اہلکار جاں بحق جبکہ دوسرا شدید زخمی ہو گیا تھا جس کے بعد پولیس نے گاڑی کے ڈرائیور سعید پر مقدمہ درج کر کے اسے حراست میں لے لیاتھاپولیس تفتیش میں معلوم ہواکہ پولیس اہلکاروں کو ٹکر مارنے والی گاڑی میاں نواز شریف کے فرسٹ کزن میاں محمد بشیر کے پوتے مصطفی کی ہے

جس کے بعد پولیس نے بالاخرمصطفی کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ مصطفی کے فون ریکارڈ کے ذریعے اس کے مزیدچار دوستوں کو بھی حراست میں لیا گیاہے ۔اس سلسلے میں مجموعی گرفتاریوں کی تعداد8بتائی جارہی ہے ، پولیس کا کہنا ہے کہ کار مصطفی احمد ولد منیر احمد کے نام پر رجسٹرڈ ہے۔واضح رہے کہ ڈیفنس اے کے علاقہ میں پیر اور منگل کی درمیانی شب نیو ائرنائٹ کے موقع پر کار کی ٹکر سے ناکے پر کھڑے پولیس اہلکار کی ہلاکت پر پولیس نے ڈرائیور کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا۔ پولیس نے ڈیفنس گھوڑا چوک کے قریب ناکہ لگا رکھا تھا۔ ناکے پر موجود پولیس اہلکاروں مستنصر اور قاسم نے زگ زیگ کرتی تیزرفتار کار نمبر ایل اے اے/2937 کو رکنے کا اشارہ کیا تو گاڑی تیزرفتاری کے باعث بے قابو ہوتی ہوئی بیرئیر سے ٹکراتے ہوئے دونوں اہلکاروں پر چڑھ گئی جس کے نتیجے میں پولیس اہلکار مستنصر موقع پر جاں بحق جبکہ قاسم شدید زخمی ہوگیا۔ قاسم کو تشویشناک حالت میں جنرل ہسپتال منتقل کردیا گیا جبکہ پولیس نے گاڑی میں موجود تین افراد کو حراست میں لے لیا۔ ذرائع کے مطابق پولیس نے ایک اعلیٰ سیاسی شخصیت کا فون آنے کے بعد دو افراد کو چھوڑ دیا جبکہ ڈرائیور سعید کو حراست میں لے کر مقدمہ درج کرلیا ہے۔ دریں اثنا واقعہ میں جاں بحق ہونیوالے 42سالہ پولیس اہلکار مستنصر کو آبائی گا?ں سوہدرہ میں نماز جنازہ کے بعد سپردخاک کردیا گیا۔

پانچ کمسن بچوں کا باپ مستنصر ملک 22سال سے پولیس میں اپنے فرائض سر انجام دے رہا تھا۔مرحوم پولیس اہلکار کی میت جب گا?ں پہنچی تو ہر آنکھ اشکبار تھی۔ اس موقع پر مستنصر ملک کے ضعیف والد نے کہاکہ میرے بیٹے کو اللہ نے شہادت کے رتبہ پر فائز کیا اورکوئٹہ حادثہ کے ذمہ دار بااثر شخص کو اگر قرار واقعی سزا مل جاتی توشائد یہ حادثہ رونما نہ ہوتا۔ اس موقع پر اہل علاقہ نے احتجاج کرتے ہوئے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا۔نماز جنازہ میں پولیس اہلکاروں کے علاوہ سیاسی و سماجی سینکڑوں شخصیات نے شرکت کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…