اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

مودی کے غنڈے آپے سے باہر،انتہا پسندوں کا مسجد پر حملہ، موذن شہید ، مسجدکی بے حرمتی ، قرآن کے پارے بھی جلا دیئے ، مسلمانوں میں شدید غم وغصے کی لہر دوڑ گئی

datetime 31  دسمبر‬‮  2017 |

حیدرآباد (مانیٹرنگ ڈیسک) مودی سرکار انتہا پسند ہندؤں کے ہاتھوں مسلمانوں کے قتل عام کو روکوانے میں ناکام ہوگئی ،ریاست آندھرا پردیش میں انتہا پسندوں نے مسجد پر حملہ کرکے موذن کوشہید کردیا جبکہ شرپسندوں نے مسجدکی بے حرمتی کرتے ہوئے قرآن کے پارے بھی جلا دیئے جس پر علاقے کے مسلمانوں میں شدید غم وغصے کی لہر دوڑ گئی اور احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ۔بھارتی میڈیا کے مطابق فرقہ پرستی کا شکار ریاست آندھرا پردیش

کے شہر راجمندری سے 10کلو میٹر دور گاوں تالہ چیرو میں واقع مسجد نورانی کے موذن محمد فاروق کو انتہا پسندوں نے گزشتہ رات مسجد پر حملہ کرکے شہید کردیا ۔ ان کا تعلق بہار سے تھا ۔وہ انتہائی خلیق اور نیک دل انسان تھے ۔ شرپسندوں نے مسجدکی بے حرمتی کرتے ہوئے قرآن کے پارے بھی جلا دیئے۔ علاقے کے مسلمانوں نے اس واقعہ پر سخت غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے راستہ روک کر احتجاجی مظاہر ہ کیا۔اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچ گئی اور لاش کو پوسٹ مارٹم کیلئے بھیج دیا ۔ پولیس نے یقین دلایا کہ قاتلوں کو جلد گرفتار کرکے ان کے خلاف کارروائی کی جائیگی۔دوسری جانب آندھرا پردیش کے وزیر اعلی این چندرابابو نائیڈو نے راجمندری میں موذن کے قتل کی واردات کا سخت نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ اس واردات میں ملوث ملزمان کیخلاف سخت کارروائی کی جائیگی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست بہار سے تعلق رکھنے والے محمد فاروق 3ماہ سے مسجد میں موذن کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے ۔ شرپسندوں نے مسجد میں داخل ہوکر قتل کردیا۔ اس ودارت میں ملوث افراد کو بخشا نہیں جائیگا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈی جی پی کو اس واقعہ کی تمام پہلووں سے چھان بین کی ہدایت دیدی گئی ہے۔ مودی سرکار انتہا پسند ہندؤں کے ہاتھوں مسلمانوں کے قتل عام کو روکوانے میں ناکام ہوگئی ،ریاست آندھرا پردیش میں انتہا پسند وں نے مسجد پر حملہ کرکے موذن کوشہید کردیا جبکہ شرپسندوں نے مسجدکی بے حرمتی کرتے ہوئے قرآن کے پارے بھی جلا دیئے جس پر علاقے کے مسلمانوں میں شدید غم وغصے کی لہر دوڑ گئی اور احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…