جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

پاکستان میں غلام کی حیثیت سے نہیں رہیں گے، ،قبائل آزاد ہیں،مولانا فضل الرحمن نے ’’آزادی کیلئے جنگ‘‘ کا اعلان کردیا

datetime 30  دسمبر‬‮  2017
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ قبائل آزاد ہیں، زبردستی شامل کرنے کا اختیار پارلیمنٹ کے پاس نہیں، پاکستان میں غلام کی حیثیت سے نہیں رہیں گے، آزادی کیلئے جنگ لڑ رہا ہوں، عوامی رائے کے فیصلے کیخلاف کوئی آپشن قبول نہیں کرینگے۔ہفتہ کو فاٹا سپریم کونسل کے انضمام نامنظور جلسے سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن

نے کہا کہ قبائل آزاد ہیں اور آزاد رہیں گے ، میں نے ہمیشہ کشمیر کی حق ارادیت کی ہے اور آزاد قبائل کے حق ارادیت کی بات بھی کرتا رہونگا۔ انہوں نے کہا کہ آزاد قبائل کیساتھ یکجہتی کیلئے عائشہ گلالئی کے آنے پر ان کا شکر گزار ہوں ۔انہوں نے کہا کہ تمام پارٹیوں کو کہنا چاہونگا کہ آپ کے کارکن آزاد قبائل کے اس جلسے میں شریک ہیں وہ اپنی پارٹیوں کے قبائل مخالف موقف سے خوش نہیں ہیں،آپ کن کی خوشی کیلئے ایسا کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کہا جاتا ہے کہ پارلیمنٹ جمہوری ادارہ ہے۔ میں مانتا ہوں مگر پارلیمنٹ ہو یا حکومت ہو، وہ ملک کے جغرافیے کو تبدیل نہیں کر سکتی، قبائل آزاد ہیں، ان کو زبردستی شامل کرنے کا اختیار پارلیمنٹ کے پاس نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں اگر قبائل کی آزادی چھینی گئی تو آ ج ہی جیل جانے کیلئے تیار ہوں، انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان میں غلام کی حیثیت سے نہیں رہیں گے ، انہوں نے کہا کہ میں ایک گھنٹے کیلئے بھی پاکستان میں غلامی کی زندگی نہیں گزارونگا، انہوں نے کہا کہ میں آزادی کیلئے جنگ لڑ رہا ہوں ، ہم آزادی کی باتیں کرینگے کیونکہ ہم ہمیشہ آزادی پسند رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ عوامی رائے کے فیصلے کیخلاف کوئی آپشن قبول نہیں کرینگے۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ قبائل آزاد ہیں، زبردستی شامل کرنے کا اختیار پارلیمنٹ کے پاس نہیں

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…