اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

بینظیربھٹو کے قتل کے بعدتفتیشی افسران، وکلا، گواہوں کے پراسرار انداز میں قتل کے پیچھے درحقیقت کون تھا؟برطانوی صحافی اوئن بینیٹ جونز کے سنسنی خیزانکشافات،پرویزمشرف نے بڑااعتراف کرلیا

datetime 27  دسمبر‬‮  2017 |

لندن (این این آئی)برطانوی صحافی اوئن بینیٹ جونز نے انکشاف کیا ہے کہ خود سابق آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ شاید ملک کی اسٹیبلشمنٹ میں موجود سرکش عناصر بینظیر بھٹو کے قتل کی منصوبہ بندی میں ملوث ہوں۔ نجی ٹی وی نے برطانوی صحافی کے حوالے سے بتایا کہ ایک حالیہ انٹرویو میں پرویز مشرف نے کہا کہ ان کے پاس اس حوالے سے کوئی حقائق تو موجود نہیں ہیں

لیکن پاکستانی معاشرہ مذہبی طور پر بٹا ہوا ہے، ایسی خاتون جو مغربی ممالک کی جانب مائل ہوں، وہ ریاست کے شر پسند عناصر کی نظر میں آسکتی ہیں ۔برطانوی صحافی اوئن بینیٹ جونز نے بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات نتیجہ خیز نہ ہونے کا ذمہ دار خود پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو ٹھہرادیا۔اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں اوئن بینیٹ جونز نے دعویٰ کیا کہ بے نظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات نیک نیتی سے نہیں کی گئیں، تفتیشی افسران، وکلا، گواہوں کو پرسرار انداز میں قتل کردیا گیا۔ گزشتہ 10 سالوں میں اب تک صرف 10 پولیس اہلکاروں کو سزا ہوئی۔برطانوی خبررساں ادارے کی تحقیقاتی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انہیں ایسی متعدد خفیہ دستاویزات حاصل ہوئیں، جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پولیس والے نچلے درجے کے کارکنان کی گرفتاری کے بعد اصل سرغنہ یا ان کے گروہ کو ڈھونڈنا ہی نہیں چاہتے تھے۔بینظیر بھٹو کے سیکیورٹی گارڈ خالد شہنشاہ اور تفتیش کرنے والے سرکاری وکیل چوہدری ذوالفقار کو پر اسرار انداز میں قتل کردیا گیاجبکہ 15 سالہ خودکش بمبار بلال کے معاون اکرام اللہ کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ زندہ ہے جبکہ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ مارا گیا۔تحقیقاتی رپورٹ میں سابق آرمی چیف اور صدرپرویز مشرف کی 25 ستمبر کو کی جانیوالی اس فون کال کا بھی ذکر کیا گیا ہے جس کو بینظیر بھٹو نے قتل کی دھمکی قرار دیا،جس کی تصدیق امریکی صحافی مارک سیگل کرتے ہیں کہ وہ اس کال کے وقت بینظیر بھٹو کے ساتھ موجود تھے۔

مارک سیگل کہتے ہیں کہ فون کال ختم ہونے کے فوراً بعد بینظیر بھٹو نے کہا کہ مشرف نے نے انہیں دھمکی دی ہے۔ اس کہ واپس مت آؤ ۔اگر انہیں کچھ ہوا تو وہ اس وہ ذمہ دار نہیں ہونگے، ان کی زندگی کی سلامتی اور سکیورٹی پرویز مشرف سے ان کے تعلق پر منحصر ہے۔دوسری جانب پرویز مشرف سختی سے ایسی کسی بھی کال کرنے کی تردید کرتے ہیں ٗبرطانوی میڈیا سے حال ہی میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ اس بات پر ہنستے ہیں کہ آخر میں بینظیر کو کیوں قتل کرونگا ؟۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…