جمعرات‬‮ ، 08 اکتوبر‬‮ 2026 

کلبھوشن کی ماں اور بیوی نے بھارت پہنچتے ہی ایسا کام کردیا کہ آپ کو بھی شدید غصہ آئیگا

datetime 26  دسمبر‬‮  2017 |

نئی دہلی (آن لائن)فوجی عدالت سے سزا یافتہ بھارتی خفیہ ایجنسی را سے تعلق رکھنے والے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے اہل خانہ نے ان سے ملاقات کے بعد نئی دہلی میں ان کی بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج سے صبح سویرے ملاقات ہوئی۔ ملاقات میں بھارت کے سیکریٹری خارجہ جے شنکر اور وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار بھی موجود تھے۔ملاقات کے بعد بھارتی جاسوس کے اہل خانہ نے میڈیا سے گفتگو کرنے سے گریز کرتے

ہوئے وہاں سے رخصت ہوگئے۔بھارتی میڈیا کا کہنا تھا کہ اس ملاقات کے دوران سشما سوراج کلبھوشن یادیو کی خیریت دریافت کرنے کے لیے انہیں مدعو کیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ سشما سوراج نے یہ ملاقات کلبھوشن یادیو کے اہل خانہ کو تسلی دلانے کے لیے کی ہے۔خیال رہے کہ گزشتہ روز بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو نے دفتر خارجہ میں بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ اور دفترخارجہ کی ڈائریکٹر انڈین ڈیسک ڈاکٹر فریحہ بگٹی کی موجودگی میں اپنی اہلیہ اور والدہ سے ملاقات کی۔کلبھوشن یادیو سے لگ بھگ 40 منٹ کی ملاقات کے بعد ان کی اہلیہ اور والدہ دفتر خارجہ سے بھارتی ہائی کمیشن روانہ ہوگئیں تھیں۔خیال رہے کہ پاکستان نے بھارت سے 10 نومبر کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بھارتی خفیہ ایجنسی را کے گرفتار افسر کلبھوشن یادیو کی اہلیہ سے اس کی ملاقات کرانے کی پیش کش کی تھی۔گزشتہ ماہ 18 نومبر کو بھارت کی جانب سے پاکستان کو اس پیشکش پر جواب موصول ہوا جس میں کہا گیا تھا انسانی حقوق کی بنیاد پر کلبھوشن کی والدہ بھی اپنے بیٹے سے ملاقات کی حق دار ہیں اس لیے پاکستان پہلے والدہ کو ویزہ فراہم کرے جن کی درخواست پاکستانی ہائی کمیشن کے پاس موجود ہے۔بعدِ ازاں 24 نومبر کو یہ اطلاعات سامنے آئیں کہ بھارت کلبھوشن یادیو سے ملاقات کے لیے ان کی اہلیہ کے ہمراہ اپنے ایک اہلکار کو بھیجنا چاہتا ہے۔بھارت کی جانب سے کلبھوشن یادیو تک قونصلر رسائی حاصل کرنے کے لیے 15 مرتبہ پاکستانی دفتر خارجہ سے درخواست کی گئی اور ہر مرتبہ پاکستان نے اس درخواست کو مسترد کردیا تھا۔تاہم بھارت نے پاکستان سے کلبھوشن یادیو کے اہل خانہ سے ان کے دورے پر سوالات یا ہراساں نہ کیے جانے کی ضمانت بھی طلب کر رکھی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…