جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

کلبھوشن سے ماں اور بیوی کی ملاقات کرانے کے بعد پاکستان اب کیا کرنے جارہا ہے،بھارت کے چہرے پر ہوائیں اڑنے لگیں

datetime 26  دسمبر‬‮  2017
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلا م آ با د (آن لائن) پاکستان کی جانب سے بھارتی دہشت گرد کلبھوشن یادیو سے اس کے اہل خانہ کی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کرائی جانے والی ملاقات کے معاملے کو عالمی عدالت انصاف میں زیرسماعت کیس کا حصہ بنایا جائے گا۔اہل خانہ سے ملاقات کے بعد بھارتی دہشت گرد کلبھوشن یادیوکا تیسرا اعترافی بیان اور ملاقات کی تمام تفصیلات پاکستان کی قانونی ٹیم آئندہ سماعت یا اس سے قبل قانون کے مطابق آئی سی جے میں پیش کرے گی۔

اس ملاقات کوکیس کا حصہ بنانے کا مقصد یہ ہے کہ بھارت اس معاملے پرآئندہ پاکستان کے خلاف کوئی پروپیگنڈا نہیں کرسکے تاہم وزیراعظم کی منظوری کے بعد پاکستان کی قانونی ٹیم اس معاملے میں اپنا تحریری موقف اور تفصیلات عالمی عدالت انصاف میں جمع کرائے گی۔پاکستان کی قانونی ٹیم اب عالمی عدالت انصاف میں مشاورت کے بعد جلد ایک نئی درخواست دائر کرے گی کہ کلبھوشن یادیو کیس پر عالمی عدالت انصاف کے قوانین کا اطلاق نہیں ہوتا لہٰذا مودی حکومت کی جانب سے اپنے دہشت گرد کو بچانے کیلیے جو کیس دائر کیا گیا ہے اس کو آئی سی جے فوری خارج یا مسترد کرے کیونکہ عالمی عدالت انصاف ایک دہشت گرد کو بچانے کیلیے دائر کیس کی سماعت نہیں کرسکتی۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ پاکستان کی جانب سے بھارتی دہشت گرد کلبھوشن یادیو سے اس کے اہل خانہ کی ملاقات سے ’’ ویا نا کنونشن ‘‘ یا جینوا کنونشن یا کسی اور عالمی قانون یا معاہدہ کا کوئی تعلق نہیں ہے جب کہ اس ملاقات سے قبل پاکستان نے بھارت کو سفارتی ذرائع سے آگاہ کردیا تھا کہ بھارتی دہشت گرد کلبھوشن یادیو کو اس کی والدہ وانتی سودھی یادیو اور بیوی چیتنکاوی یادیو سے ملاقات کی اجازت صرف’’ انسانی ہمددری‘‘ کی بنیاد پر دی گئی ہے۔ بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کا

ایجنٹ کلبھوشن یادیو ایک دہشت گرد ہے اور پاکستان کے قانون کے مطابق دہشت گردی کا الزام ثابت ہونے پر فوجی عدالت نے کلبھوشن یادیو کو سزائے موت سنائی ہے۔ کلبھوشن یادیو ’’عام قیدی نہیں ‘‘ ہے بلکہ بڑا دہشت گرد ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بھارتی دہشت گرد کلبھوشن یادیو سے اس کے اہل خانہ کی ملاقات کرانے کے بعد بھی پاک بھارت مذاکرات کی بحالی کا فی الحال کوئی امکان نظر نہیں آرہاہے اور نہ اس معاملے سے مذاکرات کا کوئی تعلق ہے۔واضح رہے کہ پاکستان بھارتی دہشت گرد کو کسی طور پر رہا نہیں کرے گا اور اس معاملے پر کسی عالمی دباؤ، سفارش اور مطالبے کو تسلیم نہیں کیا جائے گا جب کہ بھارتی دہشت گرد کلبھوشن یادیوکی سزا پر عمل درآمد یا اس سے متعلق کوئی بھی فیصلہ پاکستان کے قانون کے مطابق کیا جائے گا۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…