اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

چیف جسٹس ثاقب نثار میو ہسپتال نہ جائیں تو کیا عوام کو مرتا چھوڑ دیں،چودھری پرویزالٰہی

datetime 24  دسمبر‬‮  2017 |

لاہور(آئی این پی) پاکستان مسلم لیگ(ق) کے سینئرمرکزی رہنما و سابق نائب وزیراعظم چودھری پرویزالٰہی نے کہا ہے کہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار اگر میو ہسپتال نہ جائیں تو کیا عوام کو مرتا چھوڑ دیں، ان کے دورہ سے پیٹ میں درد صرف ان کو ہوا جن کی اپنی کارکردگی صفر ہے، چیف جسٹس نے میو ہسپتال کا دورہ کر کے نہایت ثواب کا کام کیا اور دعائیں بھی لیں، نوازشریف کو تو اپنے حلقہ میں ہی میو ہسپتال جانے کی توفیق نہیں ہوئی جہاں

شہبازشریف کی ناقص کارکردگی اور نااہلی کے باعث غریب مریضوں کو ادویات ملتی ہیں نہ بیڈ میسر ہیں اور اس ہسپتال میں میرا قائم کردہ 450بیڈ کا ہسپتال اور سرجیکل ٹاور موجودہ حکمرانوں نے جان بوجھ کر 10سال میں چالو نہیں کیا جو ان کی عوام دشمنی کا ثبوت اور ناقص کارکردگی کے منہ پر طمانچہ ہے۔ یہاں اپنی رہائش گاہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ اس دورہ کے بعد غریب مریض جہاں چیف جسٹس کو زیادہ دعائیں دے رہے ہیں وہاں حکمرانوں کیلئے ان کی بددعائوں میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہبازشریف ہر طرف اپنی کارکردگی کے ڈھول تو بجا رہے ہیں لیکن عملاً عوام کی صحت، تعلیم اور فلاح بہبود کیلئے انہوں نے اپنے ان دو ادوار میں بھی کچھ نہیں کیا۔ میو ہسپتال میں ایمرجنسی ٹاور سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ شہبازشریف نے آتے ہی اس منصوبہ پر کام روک کر پہلے تو اس کی پانچویں منزل گرا دی اور اس کے بعد میرے انتقام میں آج تک اسے چالو نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ غریب عوام کے مسائل کی بات کرنے والی ہر شخصیت کو یہ حکمران اپنا مخالف اور دشمن سمجھتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ میو ہسپتال کے دورہ پر چیف جسٹس آف پاکستان کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور عوامی فلاح کے میرے منصوبوں پر کام روک دیا گیا جو کہ نہ صرف غیر جمہوری، غیر آئینی بلکہ شرمناک رویہ ہے۔ چودھری پرویزالٰہی نے یقین ظاہر کیا کہ چیف جسٹس عوام دشمنوں کے اعتراضات اور تنقید کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ان کی جانوں کی حفاظت اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کی آئینی ذمہ داری پوری کرتے رہیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…