اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

لال مسجد کا مولوی صحیح تھا کیونکہ آپ اسکے وکیل تھے اور فیض آباد کا مولوی غلط،رو¿ف کلاسرا نے جسٹس شوکت کو کھری کھری سنادیں

datetime 27  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر صحافی و تجزیہ کار رؤف کلاسرا نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت صدیقی پر تنقیدکرتے ہوئے کہا کہ لال مسجد کا مولوی اس لیے صحیح ہے کیونکہ آپ اس کے وکیل تھے اور فیض آباد کا مولوی غلط ہے،ٹھیک ہے جناب آپ کی بات مان لیتے ہیں۔واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکش صدیقی فیض آباد دھرنے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کر رہے ہیں ، اس سماعت کے دوران جسٹس شوکت صدیقی نے فیض آباد دھرنے کی قیادت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور ان کو اسلا م آباد

کے امن و امان میں مداخلت کا ذمہ دار ٹھہرایا۔جسٹس شوکت صدیقی کی اس بات پر سینئر صحافی رؤف کلاسرا نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئیٹر پر ٹوئٹ کیا کہ لال مسجد کا مولوی جس نے دس فوجیوں کے علاوہ ایک سو لوگ آپریشن میں مروا دیے وہ اچھا تھا کیونکہ میں اس کا وکیل تھا لیکن فیض اباد دھرنے کا برا۔۔ مان لیتے ہیں بھائی جج صاحب کا جو حکم ہے۔۔! یاد رہے کہ جسٹس شوکت صدیقی لال مسجد کے خطیب مولوی عبدالعزیز کے وکیل بھی رہ چکے ہیں اور آج کل اسلام آباد ہائیکورٹ میں جج کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…