جمعہ‬‮ ، 09 اکتوبر‬‮ 2026 

لال مسجد کا مولوی صحیح تھا کیونکہ آپ اسکے وکیل تھے اور فیض آباد کا مولوی غلط،رو¿ف کلاسرا نے جسٹس شوکت کو کھری کھری سنادیں

datetime 27  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر صحافی و تجزیہ کار رؤف کلاسرا نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت صدیقی پر تنقیدکرتے ہوئے کہا کہ لال مسجد کا مولوی اس لیے صحیح ہے کیونکہ آپ اس کے وکیل تھے اور فیض آباد کا مولوی غلط ہے،ٹھیک ہے جناب آپ کی بات مان لیتے ہیں۔واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکش صدیقی فیض آباد دھرنے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کر رہے ہیں ، اس سماعت کے دوران جسٹس شوکت صدیقی نے فیض آباد دھرنے کی قیادت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور ان کو اسلا م آباد

کے امن و امان میں مداخلت کا ذمہ دار ٹھہرایا۔جسٹس شوکت صدیقی کی اس بات پر سینئر صحافی رؤف کلاسرا نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئیٹر پر ٹوئٹ کیا کہ لال مسجد کا مولوی جس نے دس فوجیوں کے علاوہ ایک سو لوگ آپریشن میں مروا دیے وہ اچھا تھا کیونکہ میں اس کا وکیل تھا لیکن فیض اباد دھرنے کا برا۔۔ مان لیتے ہیں بھائی جج صاحب کا جو حکم ہے۔۔! یاد رہے کہ جسٹس شوکت صدیقی لال مسجد کے خطیب مولوی عبدالعزیز کے وکیل بھی رہ چکے ہیں اور آج کل اسلام آباد ہائیکورٹ میں جج کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…