اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

دھرنا مظاہرین نے ایسا کیا سنگین اقدام کیا کہ سیکورٹی اداروں کو آپریشن شروع کرنا پڑا،وزیرداخلہ حسن اقبال نے سنگین الزامات عائد کردیئے

datetime 25  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنیوالے اداروں نے فیض آباد پر دھرنے والوں کیخلاف کارروائی عدالتی حکم کے مطابق کی ہے۔ حکومت عدالتی احکامات سے انکار نہیں کرسکتی۔ مظاہرین نے ایسے وقت میں پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی ہے جب باہر کا دشمن بھی پاکستان کیخلاف سازش کررہا ہے۔ دھرنا مظاہرین کے پاس آنسو گیس شیل فائر کرنیوالی بندوقیں ہیں جس سے انہوں

نے پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنیوالے اداروں پر کارروائی کے دوران آنسو گیس شیل فائر کئے۔ پی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا کہ ایک طرف باہر کا دشمن پاکستان کیخلاف لڑ رہا ہے اور دوسری طرف ایک گروپ نے بے بنیاد دعوؤں کی بنیاد ملک کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی ہے ، انہوں نے کہا کہ جس گروپ نے 20 دنوں سے فیض آباد پر دھرنا دیا ہوا ہے اسے سیاست میں آنا چاہئے ،وزیر داخلہ نے کہا کہ پولیس نے بہت احتیاط کیساتھ آپریشن شروع کیا تھا اور یہ کوشش رہی کہ کوئی جانی ومالی نقصان نہ ہو ، ہمیں اسلام آباد اور راولپنڈی کے لاکھوں لوگوں کے حقوق کا بھی تحفظ کرناہے ، انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے براہ راست حکم دیا تھا کہ تین دن کے اندر فیض آباد خالی کرایا جائے جس کی وجہ سے حکومت نے کارروائی کی ، انہوں نے کہا کہ مظاہرین کو پریڈ گراؤنڈ میں دھرنا دینے کیلئے آمادہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی لیکن انہوں نے اس سے انکار کردیا۔انہوں نے کہا کہ جمعہ کو مظاہرین نے سیف سٹی پراجیکٹ کے کیمروں کی مین تار کاٹ دی تھی جس کی تحقیقات ہو رہی ہیں، انہوں نے مظاہرین پر ملک میں انارکی پھیلانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ انہوں نے قانون کو ہاتھ میں لیا تھا ۔ احسن اقبال نے کہا کہ جس بنیاد پر مظاہرین نے بیس دنوں سے دھرنا دیا ہوا ہے وہ بے بنیاد ہے ، حکومت ختم نبوتؐ پر ایمان رکھتی ہے اور اس قانون میں تبدیلی کا سوچ بھی نہیں سکتی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت میں مظاہرین کو پرامن طریقے سے منتشر کرنے کیلئے بہت کوشش کی تاہم وہ لوگ دھرنے کو ختم کرنے پر راضی نہیں تھے ۔ ان کے رویئے نے حکومت کو طاقت کے استعمال پر مجبور کیا۔ انہوں نے کہا کہ دھرنے کے منتظمین نے انتہائی غیر ذمہ دارانہ رویہ اپنایا تھا جس سے پاکستان سے باہر بھی بہت منفی پیغام گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد میں پیدا کئے گئے حالات پر باہر بیٹھا ہوا ہمارا دشمن بہت خوش تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…