پیر‬‮ ، 29 جون‬‮ 2026 

فیض آباد دھرنے سے انتہائی افسوسناک خبر صورتحال ہاتھ سے نکل گئی، فوج طلب کرنے پر غور شروع

datetime 25  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)نجی ٹی وی جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد انتظامیہ کی جانب سے فیض آباد انٹرچینج پر دھرنے کے شرکاء کو دی گئی گذشتہ رات 12 بجے کی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد آج صبح مظاہرین کے خلاف آپریشن کا آغاز کردیا گیا۔پولیس ذرائع کے مطابق اسلام آباد کے علاقے آئی ایٹ فور میں آپریشن کے دوران مظاہرین کے پتھراؤ سے ایک پولیس اہلکارجان کی بازی ہار گیا ہے۔

پولیس اہلکار سر پر چوٹ آنے کے باعث شدید زخمی ہوا تھا تاہم بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جان کی بازی ہار گیا۔ جس کے سر پر چوٹ آئی تھی۔آپریشن میں پولیس، ایف سی اور رینجرز کی بھاری نفری حصہ لے رہی ہے، جنہوں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔شدید شیلنگ کے بعد مظاہرین منتشر ہونا شروع ہوگئے جبکہ پولیس نے درجنوں مظاہرین کو حراست میں بھی لے لیا۔اطلاعات کے مطابق مظاہرین کی جانب سے پتھراؤ اور غلیل کے ذریعے بنٹوں کا بھی استعمال کیا گیا، جس کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار جان کی بازی ہار گیا ہے جبکہ متعدد زخمی ہیں۔مظاہرین نے ایک ایف سی اہلکار کو پکڑ کر شدید تشدد کا نشانہ بنایا لیکن ساتھی اہلکاروں نے اسے فوری طور پر مظاہرین کے قبضے سے چھڑا لیا۔اسلام آباد اور راولپنڈی کے مختلف اسپتالوں میں67 زخمیوں کو لایا گیا، جن میں پولیس اور رینجرز کے اہلکار بھی شامل ہیں۔ترجمان پمز کے مطابق اسپتال میں 46 زخمیوں کو لایا گیا، جن میں سے 7 آنسو گیس سے متاثر تھے۔دوسری جانب پولی کلینک اور بینظیر اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کرکے چھٹی پر موجود پیرا میڈیکل اسٹاف اور ڈاکٹرز کو طلب کرلیا گیا۔دھرنے کے مقام پر ایمبولینسز بھی پہنچا دی گئیں جبکہ آپریشن کی فضائی نگرانی بھی کی جارہی ہے۔پولیس مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پانچ سمت سے

کارروائی کررہی ہے۔پولیس پانچ سمت سے کارروائی کرتے ہوئے مری روڈ، راولپنڈی روڈ، کھنہ پل، اسلام آباد ایکسپریس وے، جی ٹی روڈ کی جانب سے پیش قدمی کرکے فیض آباد کو مظاہرین سے خالی کروانے کی کوشش کر رہی ہے۔پولیس کی شیلنگ سے قریب موجود دفاتر میں کام کرنے والوں کو بھی دشواری کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ مری روڈ پر اسکول بند کروا دیئے گئے۔واضح رہے کہ

اسلام آباد اور راولپنڈی کو ملانے والے فیض آباد انٹرچینج پر مذہبی جماعت ‘تحریک لبیک یارسول اللہ کے دھرنے کو آج 20 روز ہوگئے، جسے ختم کرانے کے لیے حکومت کی جانب سے مذاکرات کی تمام کوششیں بے سود ثابت ہوئیں۔دھرنے کے شرکاء وزیر قانون زاہد حامد کے استعفے پر بضد تھے جب کہ حکومت کا مؤقف ہےکہ سڑکوں پر بیٹھ کر یا دھونس دھاندلی سے کسی سے استعفیٰ نہیں لیا جاسکتا۔

دوسری جانب انتظامیہ نے بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر اور مظاہرین کا پلہ بھاری دیکھتے ہوئے فوج کو طلب کرنے پر غور شروع کر دیا۔ خیال رہے کہ آپریشن میں پولیس ، ایف سی اور رینجرز کے جوان پہلے سے کال پر ہیں جبکہ اس وقت پولیس اور ایف سی مل کر آپریشن کر رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



دنیا کا سب سے بڑا غار


چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…