اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

ایک ہفتے کے اندر اندر پاک فوج کے متعدد افسروں و جوانوں کی شہادت، جلد پاکستانیوں پر کیا راز افشاء ہونے والا ہے؟ (ر) اعلیٰ فوجی افسر نے انکشاف کر دیا

datetime 24  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاک فوج کے ریٹائرڈ آفیسر لیفٹیننٹ کرنل (ر) غلام جیلانی خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں کہ دھند اور کہر کی وجہ سے حدِ بصارت بھی بے حد محدود ہے۔ تاہم بٹالین نے 14/13نومبر2017ء کی شب تین کمپنیوں کے ساتھ حملہ کیا۔ اس آپریشن کو ’’فصیلِ آہن 4‘‘ کا کوڈ نام دیا گیا۔ اس چوٹی سے پہلے ایک اور چوٹی ’’بولڈر ٹاپ‘‘ بھی آتی ہے۔ بٹالین نے اس ٹاپ پر حملہ کیا اور دہشت گردوں کو وہاں سے فرار ہوتے بن پڑی۔

یہ اس آپریشن کا پہلا مرحلہ تھا۔ دوسرے مرحلے میں موکھا پر حملہ کرنا تھا۔ جہاں 80,70 دہشت گرد مورچوں میں جمے بیٹھے تھے۔ان پر ہر اول کمپنی نے حملہ کیا اور اس دلیرانہ کارروائی میں کیپٹن جنید حفیظ نے جام شہادت نوش کیا۔ ان کے علاوہ اس کمپنی کے مزید 7جوان بھی زخمی ہوگئے جبکہ 35دہشت گرد مارے گئے باقی کے گرد گھیرا ڈال دیا گیا۔ گیارہ گھنٹے کی لگاتار لڑائی میں محصور دشمن کے اکثر دہشت گرد موت کے گھاٹ اتار دئے گئے۔ جب یہ علاقہ کلیئر ہوچکا اور موکھا ٹاپ پر تسلط حاصل کرلیا گیا تو سرحد پار اُن علاقوں پر مارٹر گولوں کی بارش کردی گئی جن سے یہ دہشت گرد اٹھ کر آئے تھے۔جن سویلین لوگوں نے ان کو پناہ دے رکھی تھی وہ بھی اسی فائرنگ کی زد میں آئے۔ یہ فائرنگ مسلسل ایک ہفتہ تک جاری رہی اور جنرل نکولسن نے جس مارٹر فائر کا ذکر کیا ہے اور جن’’بے چارے‘‘ افغان سویلین باشندوں کے گھر بار چھوڑنے کا رونا رویا ہے وہ وہی لوگ تھے جو 80,70 دہشت گردوں کو لاجسٹک سپورٹ فراہم کررہے تھے۔ جب افغانستان نے یہ دیکھا کہ اب پاکستان آرمی اس سرحد پر آکر جم کر بیٹھ گئی ہے اور باجوڑ میں پاکستان علاقے پر حملہ کرنے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ گئی تو جنرل نکولسن نے ناچار تعاون کا ہاتھ بڑھا ہے۔ جب یہ سطور لکھ رہا ہوں تو اس محاذ پرپاک آرمی کے ایک اور سپوت میجر اسحاق کی شہادت کی خبریں آ رہی ہیں۔ میجر اسحاق کا تعلق صوبہ پنجاب کے ایک مردم خیز شہر خوشاب سے تھا اور وہ ڈیرہ اسماعیل خان میں کلاچی کے مقام پر دہشت گردوں کے ساتھ مقابلے میں شہید ہوئے ہیں۔ انکی شہادت پر پوری قوم میں پاک فوج سے محبت کا جذبہ بلندیوں کو چھو رہا ہے۔ یہ شہادتیں جس غرض اور مقصد کے لئے دی جا رہی ہیں اس کا راز بھی پاکستانیوں پر جلد افشاء ہو نے والا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…