اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

تربت واقعے میں ہلاک 15 افراد کی نمازِ جنازہ ادا کردی گئی

datetime 16  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (آن لائن)بلوچستان کے علاقے تربت میں فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے 15 افراد کی نمازِ جنازہ ادا کردی گئی جبکہ ان کی میتوں کو لاہور پہنچانے کے لیے تیاریں بھی مکمل کر لی گئیں۔وزیر اعلی بلوچستان نواز ثنااللہ زہری، کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ، صوبائی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی سمیت دیگر اعلی حکام نے ان افراد کی نمازِ جنازہ میں شرکت کی۔کمشنر مکران ڈویژن بشیر احمد بنگلزئی نے بتایا

کہ ان افراد کی میتوں کو پنجاب بھیجا جارہا ہے جس کے انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ایک اور سینئر ضلعی انتظامیہ کے حکام نے اپنا نام نہ ظاہر کرنے کی درخواست بتایا کہ شرپسندوں نے ان افراد کو پاک ایران سرحد کے قریب ہی فائرنگ کر کے ہلاک کیا جو غیر قانونی راستوں سے ایران میں داخل ہونا چاہتے تھے جس کے بعد وہ ترکی کے ذریعے ملازمت کے لیے یورپ جانا چاہتے تھے۔تربت واقعے میں ہلاک ہونے والے افراد کی میتوں کو سی 130 طیارے کے ذریعے پہلے لاہور منتقل کیا جائے گا بعد ازاں انہیں سیالکوٹ، منڈی بہاالدین سمیت پنجاب کے دیگر علاقوں میں بھیجا جائے گا۔ان افراد کی نمازِ جنازہ کے دوران امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے ضلعی انتظامیہ نے سخت حفاظتی اقدامات کیے تھے۔خیال رہے کہ ایک روز قبل (15 نومبر کو) بلوچستان کے علاقے تربت میں واقع بلیدہ گورک سے 15 افراد کی گولیاں لگی لاشیں برآمد ہوئیں تھیں جن کے بارے میں سیکیورٹی حکام کا کہنا تھا کہ مقتولین کا تعلق پنجاب کے مختلف علاقوں سے ہے۔واضح رہے کہ ایف سی ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ تربت گورک میں نامعلوم مسلح افراد نے 15 افراد کو کیچ کے علاقے میں قریب سے فائرنگ کر کے ہلاک کیا۔ضلع کیچ کا شمار ان حساس علاقوں میں ہوتا ہے

جہاں مسلح افراد اکثر مزدوروں، سیکیورٹی فورسز اور حکومت کے حمایتِ یافتہ لوگوں پر حملے کرتے ہیں۔صوبہ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے تاہم یہاں ترقیاتی کام دیگر صوبوں کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہیں۔صوبہ بلوچستان گذشتہ کچھ دہائیوں سے تشدد اور کشیدگی کے لپیٹ میں ہے جس کے نتیجے میں اب تک ہزاروں افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…