بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

حکو مت پھر عوام سے ہا تھ کر گئیِِ سی پیک کی 20 سے 30 سال کے لیے سیکیورٹی لاگت بھی عوا م سے وصو ل کی جا ئیگی

datetime 4  اگست‬‮  2017 |

اسلام آباد(آن لائن) نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی ( نیپرا)نے توانائی پیدا کرنے والے اداروں کو پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کی 20 سے 30 سال کے لیے سیکیورٹی لاگت وصول کرنے کی منظوری دے دی۔پاک چین راہداری منصوبے کے تحت توانائی کے 19 منصوبوں کی لاگت کی مد میں بجلی صارفین کے ٹیرف کا ایک فیصد وصول کیا جائے گا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق اپنے ایک حکم نامے میں توانائی شعبے کے ریگولیٹر نے کہا ہے کہ انہوں نے وفاقی حکومت کے حکم پر

اضافی سیکیورٹی قیمت کو بڑھانے کی منظوری دی اور سی پیک کے تحت 19 توانائی کے منصوبوں کا تخمینہ 17 ارب روپے لگایا گیا ہے، نیپرا نے اس کا سالانہ تخمینہ 31 کروڑ 50 لاکھ روپے لگایا۔نیپرا نے اپنے جاری حکم میں کہا کہ وفاقی حکومت نے 22 ستمبر کو کابینہ کی اقتصادی تعاون کمیٹی کے فیصلے کے تحت ہدایات جاری کی تھیں۔خیال رہے کہ نیپرا نے اس حوالے سے بیشتر اسٹیک ہولڈرز، جس میں توانائی منصوبوں کے اسپانسر اور صارفین کے گروپ شامل ہیں، کے اعتراضات کو مسترد کیا، جن میں کہا گیا تھا کہ سیکیورٹی کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے اور بجلی کے صارفین سے اس کے لیے رقم وصول نہیں کی جاسکتی، اس حوالے سے یہ بھی کہا گیا کہ صارفین پہلے ہی ریاست کے اخراجات پورا کرنے کے لیے ٹیکس کی مد میں بھاری رقم ادا کررہے ہیں جس میں سیکیورٹی لاگت بھی شامل ہے۔نیپرا کا کہنا تھا کہ سی پیک معاہدے کے آرٹیکل 10 کے مطابق پاکستان منصوبے اور چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے ہر ممکن اقدامات کرنے کا ذمہ دار ہے اور اس حوالے سے سی پیک منصوبے کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی سیکیورٹی فورس اور فوج کا ایک ڈویژن قائم کیا جاچکا ہے۔اگر حکومت سیکیورٹی انتظامات کے لیے اضافی لاگت کی ذمہ داری لیتی ہے تو یہ بجٹ میں مختص کیا جائے گا جو قوم کا پیسہ ہے اور اس کی وجہ سے اتنی ہی مقدار میں رقم ترقیاتی منصوبوں کے بجٹ سے کم کرنا ہوگی۔

نیپرا کا کہنا تھا کہ کیونکہ یہ لاگت خاص طور پر سی پیک منصوبوں کے حوالے سے ہے، تو یہ زیادہ بہتر ہوگا کہ اس کی لاگت متعلقہ منصوبے سے ہی حاصل کی جائے، یہ سیکیورٹی اقدامات سی پیک کے تحت قائم توانائی کے منصوبوں کے تحفظ کو احسن طریقے سے جاری رکھنے اور اس کے تحت بجلی صارفین کے لیے بہتر منصوبے کا قیام ہے۔ریگولیٹر نے دعوی کیا کہ 19 منصوبوں میں سے 10 کے مالی اثرات نہیں ہیں جبکہ 3 منصوبوں کے مالی اثرات ایک پیسے سے بھی کم ہیں اور دیگر 6 منصوبوں کے مالی اثرات 1 سے 2 پیسے کے درمیان ہیں،نیپرا نے ادائیگیوں کا طریقہ کار بھی منظور کیا ہے جس کے مطابق سی پیک منصوبے کے تحت قائم آئی پی پیز (پرائیویٹ پاور پروڈیوسرز) سالانہ ڈیڑھ لاکھ ڈالر ادا کریں گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…