جمعہ‬‮ ، 06 مارچ‬‮ 2026 

واجد ضیاء سمیت جے آئی ٹی کے ارکان کو نشان عبرت بنانے کا فیصلہ، حکومت نے انتہائی قدم اُٹھا لیا

datetime 25  جولائی  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) واجد ضیاء سمیت جے آئی ٹی کے ارکان کو نشان عبرت بنانے کا فیصلہ، حکومت نے انتہائی قدم اُٹھا لیا، میڈیا رپورٹس کے مطابق شریف خاندان کے خلاف انکوائری کرنے والے افسران کے خلاف وفاقی حکومت نے کارروائی کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، وزیراعظم ہاؤس نے پیپلز پارٹی کے رحمان ملک کے ساتھ مل کر لندن فلیٹس کی تفتیش کرنے والے سابق ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے انعام الرحمان سحری کے خلاف نیب سے کرپشن کیس کا ریکارڈ حاصل کر لیا ہے۔

مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ واجد ضیاء اور ان کے اہل خانہ کی آمدن اور اثاثوں کے ریکارڈ کا جائزہ اور اس کے علاوہ نیب کو مطلوب انعام الرحمان سحری کو انٹرپول کے ذریعے پاکستان لانے پر غور ہو رہا ہے۔ دستاویزات کے مطابق انعام الرحمان سحری کو 1998ء میں وزیر اعظم نواز شریف کے احکامات پر ملازمت سے برطرف کر دیا گیا تھا۔ 1994ء میں انعام الرحمان سحری نے رحمان ملک کے ساتھ مل کر شریف خاندان کی لندن جائیدادوں کی انکوائری کی تھی، گو کہ رحمان ملک کی انکوائری پر شریف خاندان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی تھی لیکن رحمان ملک اور انعام الرحمان سحری سمیت ایف آئی اے افسران کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑا تھا۔ دستاویزات کے مطابق احتساب بیورو نے 28 جنوری 1999ء کو انعام الرحمان کے خلاف آمدن سے زائد منقولہ و غیر منقولہ جائیداد کا کیس تیار کیا اور ایف آئی اے کو کارروائی کا حکم دیا گیا۔ ایف آئی اے نے یہ انکوائری بعد میں نیب کے حوالے کر دی، جس میں انعام الرحمان سحری پر 1985ء سے 1988ء کے دوران 2 کروڑ 33 لاکھ روپے کی جائیداد بنانے کا الزام عائد کیا گیا تھا جبکہ اس موقع پر انعام الرحمان سحری کی آمدن ایک کروڑ 30 لاکھ روپے تھی۔ اس وقت انعام الرحمان سحری کے اکاؤنٹ میں ایک کروڑ 18 لاکھ روپے کی رقم بھی موجود پائی گئی تھی، جس کا انعام الرحمان سحری کے پاس کوئی ثبوت نہیں تھا۔

وزیراعظم ہاؤس کے سخت احکامات تھے کہ انعام الرحمان سحری کو احتساب عدالت کے ذریعے نشان عبرت بنایا جائے۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد نیب نے انعام الرحمان اور ان کی اہلیہ کے خلاف احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کر دیا۔ اس دوران نیب راولپنڈی نے کہا کہ انعام الرحمان سحری کینیڈا میں ہیں اور ان کی اہلیہ لندن میں مقیم ہیں اس لیے ان کے خلاف کارروائی نہیں ہو سکتی، اگر حکومت انعام الرحمان سحری کو انٹرپول کے ذریعے نیب کے حوالے کر دے تو احتساب عدالت کے ذریعے انہیں سزا دلوائی جا سکتی ہے،

میڈیا ذرائع کے مطابق مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی تحقیقات کے دوران انعام الرحمان سحری نے شریف خاندان کے خلاف محاذ کھولا جس پر وزیراعظم نواز شریف اور حکومتی شخصیات سخت برہم ہیں اور اسی وجہ سے نیب نیب راولپنڈی سے انعام الرحمان سحری کے خلاف ریکارڈ منگوایا گیا ہے تاکہ انٹرپول کے ذریعے انعام الرحمان سحری کو پاکستان لایا جائے۔ دوسری طرف مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ واجد ضیاء اور ان کے خاندان کی آمدن اور اثاثوں کا ریکارڈ بھی جمع کر لیا گیا ہے۔ جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء نے شریف خاندان سے کسی قسم کا کوئی تعاون نہیں کیا، میڈیا ذرائع کے مطابق وزیراعظم ہاؤس کی اہم شخصیت کی ہدایت پر واجد ضیاء کے اثاثوں اور آمدن کے ریکارڈ کی تجزیاتی رپورٹ تیار کرائی جا رہی ہے اگر آمدن اور اثاثوں میں فرق ہوا تو قانونی کارروائی کی جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



عربوں کا کیا قصورہے؟


ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…