جمعہ‬‮ ، 06 مارچ‬‮ 2026 

1984ء میں لندن میں فلیٹ خریدنے کے باوجود 1985ء میں والدہ کے علاج کے لیے پیسے نہ تھے؟ عمران خان کیخلاف منفی پروپیگنڈے کی حقیقت سامنے آ گئی

datetime 23  جولائی  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) 1984ء میں لندن میں فلیٹ خریدنے کے باوجود 1985ء میں والدہ کے علاج کے لیے پیسے نہ تھے؟ تفصیلات کے مطابق ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اپنی ماں کے علاج سے متعلق سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈے کا جواب دیا، انہوں نے کہا کہ میں اپنی والدہ کو علاج کے لیے انگلینڈ لے کر گیا، میری والدہ کی بیماری کا بروقت پتہ نہ چل سکا،

پاکستان میں کوئی کینسر ہسپتال نہیں تھا اور ہسپتال نہ ہونے کی وجہ سے میری والدہ کا کینسر آخری اسٹیج تک پہنچ چکا تھا، انہوں نے اپنی والدہ کے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ میری ماں ایک مکمل ماں تھی۔ ماں کا کوئی نعم البدل نہیں، اسی لیے اسلام نے ماں کو بلند درجہ دیا ہے، ایک دفعہ مجھے اپینڈکس کی تکلیف تھی مجھے درد ہوتا تھا تو میری والدہ ساری رات میری پاس بیٹھ کر گزارتی تھیں، عمران خان نے مزید بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ میں جب کرکٹ کھیلنے کہیں جاتا تو جہاز اگر ہچکولے کھاتا تھا تو میں سوچتا تھا کہ اگر مجھے کچھ ہو گیا تو میری والدہ کا کیا ہو گا، انہوں نے کہا کہ میری والدہ کو کینسر جیسا مرض لاحق ہو گیا، اگر اس بیماری کا جلدی پتہ چل جاتا تو علاج ممکن تھا، مگر یہاں ہسپتال نہ ہونے کی وجہ سے کینسر پھیل گیا، میری والدہ کے آخری دو تین مہینے بڑی تکلیف میں گزرے۔ میں اپنی والدہ کو علاج کے لیے انگلینڈ لے کر گیا، میرا اتنا نام تھا مگر پھر بھی مجھے والدہ کو لندن لے جانے میں بہت تکلیف اور مشکل کا سامنا کرنا پڑا۔ اس وقت میں نے ہسپتال بنانے کا فیصلہ کر لیا۔ انہوں نے کہا کہ کینسر کا علاج بہت مہنگا ہے، مزید کہا کہ انسان کو تکلیف ہو تو سوچنا چاہیے کہ یہ تکلیف کیوں ہوئی ہے، اس کا حل ڈھونڈنا چاہیے، تاہم میں نے بھی اس تکلیف کو دیکھ کر ہسپتال بنایا، اگر مجھے یہ تکلیف نہ پہنچتی تو میں شاید نہ ہسپتال بنانا، نہ سیاست میں ہوتا اور نہ ہی سوشل ورکر ہوتا، عمران خان نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے اپنے خلاف چلنے والی سوشل میڈیا پر والدہ کے علاج کے متعلق پروپیگنڈے کا جواب دے دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



عربوں کا کیا قصورہے؟


ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…