ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

آرمی چیف کو یہ عہدہ دیدیا جائے ،زبردست اقدام اٹھا لیا گیا

datetime 17  اکتوبر‬‮  2016 |

راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک)پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ میں بھی کچھ ہی ہفتے باقی بچے ہیں۔ جوں جوں آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ کے دن قریب آتے جار ہے ہیں عوام کی دل کی دھڑکنیں بھی تیز ہوتی جارہی ہیں۔ حال ہی میں ان کو فیلڈ مارشل بنانے کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں تجویز پیش کی گئی ہے۔ نجی انگلش اخبار کے مطابق آرمی چیف کی قوم کےلئے خدمات اور قربانیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں یہ تجویز سردار عدنان کی جانب سے جمع کروائی گئی ہے۔ سردار عدنان کا کہنا تھا کہ آرمی چیف نے ملک و قوم کیلئے بے انتہا قربانیاں دیں ہیں۔ ان کی ملک و قوم کیلئے خدمات قابل تحسین ہیں۔ لہٰذا انہیں فیلڈ مارشل تعینات کیا جائے ۔ اس وقت ملک میں ضرب عضب آپریشن ، پاک بھارت کشیدگی ، پاک افغان بارڈر کشدگی اور ملک میں امن وامن کی کمی کی وجہ سے ان کا جانا اس وقت ٹھیک نہیں ہے۔ اپیل میں عدنان سردار کے وکیل کا کہنا تھا کہ جنر ل راحیل شریف کو ضرب عضب میں ملنے والی کامیابیوں ، نیشنل ایکشن پلان پر عملدآمد وار دہشتگردوں کے خلاف موثر کاروائیوں کے بہترین اقدامات پر انہیں فیلڈ مارشل کے عہدے پر تعینات کیا جائے ۔ واضح رہے کہ آرمی چیف جنر راحیل شریف پاکستان کے 15ویں آرمی چیف ہونے کے ساتھ ساتھ عوام میں میں کافی مقبول ہیں۔ آرمی چیف آئندہ ماہ کےآخر میں ریٹائر ہو جائیں گے لیکن پاکستان کی عوام نے ان کیلئے نیک تمنائوں کے ساتھ قومی سلامتی کے تحفظ کے جذبے کی قدر کر تےہوئے آرمی چیف کی توسیع لینے کی ہائیکورٹ اسلام آباد میں درخواست دی ہے۔ یاد رہے کہ آرمی چیف نے کسی بھی قسم کی توسیع لینے سے انکار کیا ہوا ہے۔

دوسری جانب آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل (ر) ضیاالدین بٹ نے کہا ہے کہ نیا آرمی چیف منتخب کرنے کیلئے سنیارٹی کا خیال رکھا جائے اور پاکستان کے آئین میں بھی آرمی چیف کی مدت ملازمت کی کوئ حد نہیں ہے ۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی چینل کو دئے گئے ایک انٹرویو میں پاکستانی ایجنسی آئی ایس آئی کے سابق چیف جنرل (ر) ضیاالدین بٹ نے کہا کہ آرمی چیف کا کوئی دورانیہ نہیں ہے اور نہ ہی مقررہ وقت کی اہمیت ہے ۔ ہمارے ملک میں سوائے جنرل کاکڑ کے باقی سب لوگ یا تو شروع میں چلے گئے یا پھر 6 ،6 سال بھی رہے ہیں۔ ہمارے آئین میں بھی آرمی چیف کی مدت ملازمت کی کوئی حد نہیں ہے بلکہ یہ حکومت کی اپنی خوشی پر منحصر ہے۔ جو بھی بنے گا تو وہ ملک کیلئے بہتر ہی ہوگا لیکن اگر چیف جسٹس کی طرح سنیارٹی کا خیال رکھا جائے گا تو یہ بہترین ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ سول ملٹری تعلقات بہتر ہونے چاہئیں کیونکہ جب فوج کھڑی ہوتی ہے تو پوری قوم اس کے پیچھے کھڑی ہوجاتی ہے ۔ ملک کو اس وقت بیرونی محاذوں پر شدید مشکلات کاسامنا ہے اس لیے فوری طور پر قابل وزیر خارجہ تعینات کرکے سفارتی تعلقات بہتر کیے جائی

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…