ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

قومی سلامتی کمیٹی بارے خبر دینے والے صحافی سرل المیڈا نے انکوائری کمیٹی بارے کیا جواب دیا؟

datetime 14  اکتوبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)نجی ٹی وی رپورٹ کے مطابق نیشنل سکیورٹی کمیٹی کے بارے میں متنازعہ خبر کے معاملے میں ڈیلی ڈان کے اسسٹنٹ ایڈیٹرسرل المیڈا نے حکومت کی طرف سے رابطہ کرنے پر انکوائری کمیٹی کے سامنے پیش ہونے اور بیان ریکارڈ کروانے سے انکار کردیا ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق انگریزی اخبارڈان کی طرف سے متنازعہ خبرکے معاملے پرجوکمیٹی تشکیل دی گئی ہے اس میں متعلقہ رابطوں کیلئے اہم ذمہ داری وفاقی وزیرزاہد حامد کودی گئی ہے۔ نجی ٹی وی کے ذرائع کاکہناہے کہ ڈان کے اسسٹنٹ ایڈیٹرسرل المیڈا سے وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے رابطہ کیا ہے، انہوں نے صحافی کو انکوائری کمیٹی میں اپنا بیان ریکارڈ کروانے کا کہا ہے، صحافی نے انکوائری کمیٹی کے سامنے پیش ہونے اور بیان ریکارڈ کروانے سے انکار کردیا ہے۔ سرل المیڈاکی طر ف سے انکارپرذرائع کایہ کہناہے کہ سرل کی طر ف سے انکوائری کمیٹی کے سامنے پیش نہ ہونے کوبڑی اہمیت دی جارہی ہے کہ یہ ایک عام معاملہ نہیں ہے بلکہ اس خبرکے پیچھے کچھ طاقت ورقوتیں ہیں ۔
دوسری جانب نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی نے کہا کہ ’ڈان‘ کی خبر کے بعد جب حکومت پر پریشر آیا تو حکومت نے کہا کہ ہم نے تو اس کی تردید بھی جاری کر دی ہے۔ مگر اس کے باوجود ڈان کی انتظامیہ اور رپورٹر اپنی خبر پر قائم رہے۔ سینئر صحافی نے انکشاف کیا کہ کل کی میٹنگ میں نواز شریف آرمی کی لیڈر شپ کی دوٹوک بات چیت ہوئی۔ سینئر صحافی نے دعویٰ کیا کہ ہمارے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج موجود ہے۔ سینئر صحافی صابر شاکر نے انکشاف کیا کہ گزشتہ میٹنگ میں ملٹری لیڈرشپ نے تمام شواہد وزیر اعظم نواز شریف کے حوالے کر دئیے ہیں کہ جو آپ نے تردید کی تھی اس کے جواب میں یہ شواہد ہیں۔ ملٹری لیڈر شپ نے نواز شریف کو کہا کہ آپ کا یہ یہ بندہ اس میں ملوث ہے۔ فلاں بندے نے یہ خبر فیڈ کی، اس میں رپورٹر کا کوئی قصور نہیں اور نہ ہی اخبار کا کوئی قصور ہے۔ ملٹری لیڈر شپ کی جانب سے نواز شریف کو کہا گیا کہ اگر یہ خبر صحیح ہوتی تو بھی ٹھیک تھا لیکن جب یہ موضوع زیر بحث ہے ہی نہیں تو یہ خبر دینے کا مقصد کیا تھا؟ کیا آپ انڈیا کو خوش کرنا چاہتے ہیں؟عالمی میڈیا، یورپ اور انڈیا سمیت ہمیں برا بھلا کہہ رہا ہے۔ اب وہی کام آپ کر رہے ہیں۔ سینئر صحافی صابر شاکر نے انکشاف کیا کہ پچھلے تین سالوں میں آرمی لیڈرشپ اور سول لیڈر شپ کی اتنی تلخ میٹنگ کبھی نہیں ہوئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…