نئی دہلی (آن لائن)بھارتی ماہرین نے اپنی فضائیہ کو ناکارہ اور پاکستان کی دفاعی صلاحیت کو زبردست قرار دیدیا ہے۔برطانوی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق بھارتی ماہرین نے کہا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ انڈیا کی حکومتوں نے ایسی صلاحیت بڑھانے کے لیے کام نہیں کیا، میڈیا میں یہ بات کہی جا رہی ہے کہ فضائیہ کو پاکستان کے اندر اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کرنا چاہیے لیکن یہ آسان نہیں ہو گا کیونکہ پاکستان کے پاس عمدہ دفاعی نظام موجود ہے۔رپورٹ کے مطابق دفاعی تجزیہ کار اجے شکلا کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کا مسئلہ یہ ہے کہ اس نے’ ’پاکستان ‘‘کے خلاف بیان بازی کو تو بہت بڑھا دیا ہے لیکن فوج کی صلاحیتوں اور منصوبہ بندی کے نظام کو بہتر نہیں کیا،اور اب اپنے ہی اودھم میں پھنس گئی ہے۔روپورٹ کے مطابق دہلی کے تھنک ٹینک سینٹر فار پالیسی ریسرچ کے پرتاب بھانو مہتا کا کہنا ہے کہ انڈیا کی پاکستان کے خلاف جوابی کارروائی سے باز رہنے کی حکمت عملی کافی کامیاب رہی ہے۔
پاکستان تنہا ہو جائے گا ماسوائے چین کے اور ہمیں پاکستان کے خلاف مالی پابندیوں کا مطالبہ کرنا چاہیے۔ان کا مزید کہناہے کہ اتوار کو اوڑی میں ہونے والے حملے سے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں انڈیا پر کشمیر کے حوالے سے موجود دباؤ کافی کم ہو جائے گا،ہم نے عوامی دباؤ میں آ کر خود کو ایک کونے میں بند کر لیا ہے، اگر ایسا نہ کیا جائے تو ہم یہ طویل جنگ جیت رہے ہیں۔ دفاعی تجزیہ کار کرسٹین فیئر کا کہنا ہے اگر جوابی کارروائی سے باز رہنے کی حکمت عملی کا مقصد پاکستان کو انڈیا میں کارروائیاں کرنے سے باز رکھنا ہے تو یہ حکمت عملی بری طرح ناکام ہو چکی ہے، کیا انڈیا کی اس حکمت عملی کے باعث عالمی برادری کا جھکاؤ انڈیا کی جانب ہو گیا ہے؟ نہیں۔دیگر ماہرین کا خیال ہے کہ جوابی کارروائی سے باز رہنے کی حکمت عملی کے پیچھے انڈیا کی غیر معقول منطق یہ ہے کہ ایک ارب سے زائد افراد اور سب سے بڑی فوج کا ملک حملوں میں فوجیوں کی ہلاکت برداشت کر سکتا ہے اور اس پر کوئی سیاسی بحران بھی پیدا نہیں ہو گا۔مصنف برہما چلنی کا کہنا ہے جوابی کارروائی سے باز رہنے کی حکمت عملی غیر اخلاقی انتخاب ہے جس سے دشمن کی مسلسل کارروائیوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے، اور یہ بھی غلط موقف ہے کہ انڈیا کے پاس اپنی ہی سر زمین پر پاکستان کی غیر روایتی جنگ لڑنے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں۔
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ انڈیا کو پاکستان کے ساتھ سفارتی تعلقات کو کم کر دینا چاہیے، چین، سعودی عرب اور امریکہ پر دباؤ ڈالنا چاہیے، مالی پابندیوں کے لیے لابی کرنی چاہیے اور امریکہ پر دباؤ ڈالنا چاہیے کہ کھلے الفاظ میں پاکستان کو دہشت گردی کی معاونت کرنے والا ملک قرار دے۔زیادہ تر ماہرین کا کہنا ہے کہ انڈیا اپنے پیغام پر قائم رہے کہ انڈیا سرحد پار دہشت گردی کا نشانہ ہے۔ کرسٹینا فیئر کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ میں بلوچستان کا ایشو اٹھانے سے انڈیا کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا،انڈیا کی تشویش اور توجہ پاکستان کی دہشت گردی ہونی چاہیے نہ کہ بلوچستان انڈیا کو اس پیغام کو ہی لے کر چلنا چاہیے اور عالمی برادری کو قائل کرنے کی کوشش کرے۔جنوبی ایشیا کے ماہر سٹیفن کوہن کا کہنا ہے کہ انڈیا اور پاکستان کا اختلاف دنیا میں دشوار ترین اختلافات میں سے ایک ہے جو غیر معینہ مدت تک جاری رہ سکتا ہے ،یہ وہ اختلاف ہے جو پاکستان جیت نہیں سکتا اور انڈیا ہار نہیں سکتا۔
بھارت بمقابلہ پاکستان ، دفاعی صلاحیت, بھارتی ماہرین نے مودی کو آئینہ دکھا دیا
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
320 کلومیٹر فی گھنٹہ رفتار کے طوفان کا خطرہ، تین ممالک میں شدید تباہی کا خدشہ
-
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں کمی کردی
-
پی آئی اے جہاز گلگت سے اسلام آباد آتے ہوئے ریڈار سے غائب، 37 سال سے لاپتا
-
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں مزید کمی کردی
-
کراچی کے نجی اسپتال میں بچے کی پیدائش کے معاملے کا ڈراپ سین ہوگیا
-
مون سون بارشوں کے طاقتور سسٹم کی پاکستان میں انٹری! الرٹ جاری
-
ملازمین کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں بڑے اضافے کی منظوری
-
کل بروز ہفتہ29اگست مقامی تعطیل کا اعلان
-
پانچ ہزار روپے کے ایک نوٹ کی تیاری پر کتنے روپے خرچ ہوتے ہیں؟
-
21سالہ ماڈل کا گھر میں بیدردی سے قتل
-
آسٹریلیا نے پاکستان کیلئے نئی ٹریول ایڈوائزری جاری کردی
-
محمد عباس نے لارڈز ٹیسٹ میں ایسا اعزاز اپنے نام کرلیا جو عمران خان، گلین میگراتھ یا ایلن ڈونلڈ بھی ن...
-
اہلیہ حج پر ساتھ کیوں نہیں گئیں؟ وسیم اکرم نے بتا دیا
-
پنجاب میں مون سون کا 8واں اسپیل، 29 اگست سے 5 ستمبر تک بارشوں کا الرٹ جاری



















































