اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

جنرل راحیل شریف نے افغان صدر کو ٹیلی فون گھما دیا بڑی بات بھی کہہ دی

datetime 26  اگست‬‮  2016 |

راولپنڈی(مانیٹرنگ ڈیسک) آرمی چیف آف اسٹاف جنرل راحیل شریف نے افغان صدر اشرف غنی سے ٹیلی فون پر رابطہ کر کے گزشتہ روز کابل میں امریکی یونیورسٹی پر ہونےوالے حملے کی مذمت کی اور تحقیقات کی یقین دہانی کروائی۔پاک فوج کے تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق آرمی چیف آف اسٹاف جنرل راحیل شریف نے افغان صدر اشرف غنی سے ٹیلی فونک رابطہ کر تے ہوئے گزشتہ روز امریکن یونیورسٹی آف افغانستان میں ہونے والے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی سرزمین افغانستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔
آئی ایس پی آر کے اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’آرمی چیف آف اسٹاف نے دہشت گردوں کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس سانحے میں افغانی بھائیوں کے غم میں برابر کی شریک ہے۔ ترجمان پاک فوج کے مطابق افغان حکام نے آرمی چیف آف اسٹاف کو 3 ٹیلی فون نمبرز دئیے جو مبینہ طور پر حملہ آور استعمال کررہے تھے، جس پر پاک فوج نے افغان سرحد کے قریب کومبنگ آپریشن کیا بعد ازاں یہ معلوم ہوا کہ یہ تمام سمز ایک افغان کمپنی کی ہیں۔افغان حکام کی جانب سے مبینہ طور پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ ’’دہشت گرد حملے کے دوران پاک افغان سرحد کے قریب پاکستان میں موجود مبینہ دہشت گردوں سے مسلسل رابطے میں تھے‘‘۔
آئی ایس پی آر کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ’’افغان حکام کی جانب سے دیئے گئے نمبرز کا تکنیکی جائزہ لیا جارہا ہے جب کہ اس کمپنی کے سگنل پاک افغان سرحد کے قریب بعض علاقوں میں آتے ہیں۔ آرمی چیف آف اسٹاف نے افغان قیادت کی جانب سے دئیے گئے نمبرز کی مزید تفتیش کرنے کی یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ ’’پاکستانی سرزمین کو کسی صورت بھی افغانستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی‘‘۔واضح رہے گزشتہ روز افغانستان کے دارلحکومت کابل میں دہشت گردوں نے امریکن یونیورسٹی آف افغانستان پر حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں 7 طالبات سمیت 13 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…