اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

چوہدری نثارکی برہمی،وزیراعظم نوازشریف نے معافی مانگ لی

datetime 10  اگست‬‮  2016 |

اسلام آباد (این این آئی)قومی اسمبلی کے اجلاس میں وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار کی جانب سے اپوزیشن کو شدید تنقید کا نشانہ بنائے جانے کے بعد اپوزیشن نے واک آؤٹ کیا ٗ وزیر اعظم نوازشریف نے اپوزیشن کو مناکر تاریخ رقم کر دی ۔ بدھ کو قومی اسمبلی میں وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے اپوزیشن کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا وزیر داخلہ کی تقریر کے بعد اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے اپنی تقریر میں ان کے رویے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے واک آوٹ کا اعلان کر دیا جس کے بعد پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے ارکان ایوان سے واک آوٹ کر گئے۔اس کے بعد وزیراعظم نواز شریف نے خود جا کر اپوزیشن کو منایا ۔ وزیراعظم کی جانب سے معذرت پر اپوزیشن ارکان واپس آگئے۔ وزیراعظم نے اپوزیشن سے درخواست کی کہ ملک کو اتحاد کی ضرورت ہے اگر کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو میں معذرت خواہ ہوں۔خورشید شاہ نے وزیراعظم سے گلہ کیا کہ کسی کو آپ کیخلاف کام کرنے کی ضرورت نہیں آپکے اپنے ہی کافی ہیں۔ یاد رہے کہ پارلیمانی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ کوئی منتخب وزیراعظم حزب اختلاف کو منا کر واپس ایوان میں لایا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…