اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

اویس شاہ کی بازیابی۔۔۔رات 3 بجے کس کا فون آیا اور کیا کہا ؟ چیف جسٹس نے سب بتا دیا

datetime 19  جولائی  2016 |

کراچی(مانیٹر نگ ڈیسک) چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ سجاد علی شاہ نے کہا کہ ان کے بیٹے بیٹے کی بازیابی میں ‘سارا کردار پاک فوج کا ہے’۔ یہ سب کی دعاؤں کا نتیجہ ہے کہ ان کا بیٹا واپس آگیا۔ اویس شاہ کو گذشتہ ماہ 20 جون کو کراچی کے علاقے کلفٹن میں واقع ایک سپر اسٹور کے باہر سے اغواء کرلیا گیا تھا، جنھیں پیر کو رات گئے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک سے پاک فوج نے ایک آپریشن کے بعد بازیاب کروایا۔بعدازاں اویس شاہ کو خصوصی طیارے کے ذریعے ٹانک سے کراچی لایا گیا اور انھیں میڈیا کے سامنے پیش کیا گیا۔اس موقع پر چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ سجاد علی شاہ میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ، ‘رات کو 3 بجے مجھے جنرل راحیل شریف کا فون آیا اور انھوں نے مجھے بتایا کہ آپ کا بیٹا ہم نے بازیاب کروالیا ہے۔
جسٹس سجاد کے مطابق آرمی چیف ذاتی طور پر اْس ٹیم کو مانیٹر کر رہے تھے جسے انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) جنرل رضوان نے ترتیب دیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ ان کے بیٹے سے ان کی بات بھی کروائی گئی اور پھر خصوصی طیارے کے ذریعے سے ٹانک سے یہاں پہنچایا گیا۔چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کا کہنا تھا کہ بیٹے کی بازیابی میں ‘سارا کردار پاک فوج کا ہے’۔ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ ‘آرمی حکومت پاکستان کا حصہ ہے، آرمی الگ نہیں ہے’۔جسٹس سجاد علی شاہ کے مطابق جس دن یہ واقعہ ہوا، اس دن بھی جنرل راحیل شریف کا فون آیا اور انھوں نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر ان کے بیٹے کی بازیابی کی کوشش کریں گے اور پھر ڈی جی آئی ایس آئی بھی ان سے مسلسل رابطے میں رہے۔اس سوال کے جواب میں کہ اویس شاہ کو کس نے اغواء4 کیا، جسٹس سجاد کا کہنا تھا، ‘کچھ پتہ نہیں کہ کس نے اغواء کیا تھا’۔آخر میں جسٹس سجاد نے کہا کہ اللہ نے انھیں استقامت اور حوصلہ دیا اور وہ بیٹے کے اغواء4 ہونے سے بازیابی کے دوران پوری طرح اپنے فرائض نمٹاتے رہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…