اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

افغانستان کا بارڈر مینجمنٹ کیخلاف ردعمل سمجھ سے بالاتر ہے ٗطارق فاطمی

datetime 18  جون‬‮  2016 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے خارجہ امور سید طارق فاطمی نے کہا ہے کہ پاکستان سرحدی انتظام کو نظر انداز نہیں کر سکتا ٗافغانستان کا بارڈر مینجمنٹ کے خلاف ردعمل سمجھ سے بالاتر ہے ایک انٹرویو میں سید طارق فاطمی نے کہا کہ دو سالہ آپریشن ضرب عضب اور موثر سرحدی انتظام کے ذریعے سرحدی علاقوں میں مثبت نتائج حاصل کئے گئے ہیں، پاکستان افغان بارڈر کے تمام اہم کراسنگ پوائنٹس پر گیٹ تعمیر کرنے کا فیصلہ کر چکا ہے، افغانستان کا بارڈر مینجمنٹ کے خلاف ردعمل سمجھ سے بالاتر ہے اور یہ ایک بدقسمتی ہے کیونکہ ہم نے بارڈر مینجمنٹ ایشو پر افغانستان کے ساتھ اعلی سطحی مشاورت اور گفتگو کی تھی، پاکستان تمام کراسنگ پوائنٹس اور داخلی راستوں پر گیٹس تعمیر کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ سرحد پر گیٹس کی تعمیر کے حوالے سے پاکستان عالمی قوانین کی خلاف ورزی نہیں کر رہا کیونکہ دنیا کے کئی ممالک نے کراسنگ پوائنٹس پر گیٹس تعمیر کئے اور بارڈر مینجمنٹ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے،
جن میں امریکہ اور کینیڈا بھی شامل ہیں، وہ دوستانہ ماحول میں سرحدی امور کو چلا رہے ہیں۔ سید طارق فاطمی نے کہا کہ پاک افغان سرحدی امور پر اختلافات کو طے کرنے کیلئے کسی تیسری قوت کی مداخلت کی ضرورت نہیں ہے، ہم اپنے مسائل مذاکرات کے ذریعے خود حل کریں گے۔ ایک سوال کے جواب میں طارق فاطمی نے کہا کہ دہشتگردی کے خاتمے کیلئے بارڈر مینجمنٹ ضروری اور ناگزیر ہے، بارڈر مینجمنٹ کے بارے میں افغانستان کے خدشات دور کرنے کیلئے تیار ہیں، افغان عوام ہمارے بھائی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ تمام مسائل مذاکرات کے ذریعے حل ہوں، افغان مہاجرین باعزت انداز میں واپس چلے جائیں تاکہ پاکستان میں امن و امان کے مسائل بھی کم ہو جائیں، افغان صدر اشرف غنی کے ساتھ تعاون جاری رکھیں گے۔ توقع ہے کہ افغان حکومت اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان 30 لاکھ افغان مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے، آدھے سے زیادہ مہاجرین کی رجسٹریشن بھی نہیں ہوئی، اب ہمارے لئے یہ ممکن نہیں کہ افغان مہاجرین کی میزبانی جاری رکھ سکیں، اگر افغانستان بائیو میٹرک کا نظام نصب کرے تو ہم اس کا خیرمقدم کریں گے۔ امریکی ڈرون حملے سے افغان امن عمل متاثر ہوا، 18 مئی کو امن عمل کی حمایت کی گئی اور 21 مئی کو ڈرون حملہ ہوا، جس سے امن عمل پر سوالیہ نشان لگ گئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…