اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

خوا جہ آصف نا اہلی کیس، سپر یم کو رٹ سے بڑی خبر آگئی

datetime 7  جون‬‮  2016 |

اسلام آباد (آن لائن )سپریم کورٹ نے وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کے حلقہ این اے 110میں دوبارہ انتخابات سے متعلق کیس میں نادرا رپورٹس کی وضاحت کے لیے نادرا کی مجاز اتھارٹی اور الیکشن کمیشن کے حکام کو طلب کر تے ہوئے کیس کی سماعت ایک روز کے لیے ملتوی کر دی ۔ منگل کے روز چیف جسٹس انو ر ظہیر جمالی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی ۔ مقدمہ کی سماعت شر وع ہوئی تو تحریک انصاف کے امیدوار عثمان ڈار کے وکیل بابر اعوان ایڈوکیٹ نے نادرا رپورٹ پر اعتراضات لگاتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ فنگر پرنٹس کی تصدیق نہ ہونے کا مطلب کسی اور نے ووٹ کاسٹ کیے،کاسٹ کیے گئے ووٹوں میں شناختی کارڈ نمبر مکمل نہیں ، بہت سے شناختی کارڈ قابل اعتراض ہیں ، شناختی کارڈ پر ایکس لکھا ہے بہت سے شناختی کارڈ پر ،حلقے کے 29پولنگ اسٹیشنز کا ریکارڈ نہیں ،30000 ووٹوں کی تصدیق نہ ہو سکی،مجموعی طور پر نتیجہ متاثر ہوا،دونوں فریقین کے نتائج کا فرق 21000 تھا، صرف 44ہزار ووٹوں کی تصدیق ہو سکی ہے اس کے علاوہ تمام ووٹ قابل اعتراض ہیں ،اس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن بتایے کہ 29 پولنگ اسٹیشنوں کا ریکارڈ کدھر ہے ، جبکہ جسٹس عمر عطا بندیال انتخابی مواد محفوظ کرنے کے لیے الیکشن کمیشن کے پاس سٹورز موجود نہیں ،شناختی کارڈ نمبر میں ایکس لکھنے کی وضاحت نادرا حکام ہی کر سکتے ہیں ۔عدالت عظمیٰ نے بابراعوان کے دلائل سننے کے بعدالیکشن کمیشن اور نادرا حکام کو رپورٹ سے متعلق وضاحت کے لیے طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت بدھ تک ملتوی کر دی ،کیس کی مزید سماعت بدھ کو ساڑھے گیارہ بجے شروع ہو گی ۔واضح رہے کہ حلقہ این اے 110میں 2013کے عام انتخابات میں مسلم لیگ ن کے خواجہ آصف کامیاب قرار پائے تھے اور انکی کامیابی کو تحریک انصاف کے عثمان ڈار نے چیلنج کر رکھا ہے۔ مقدمہ کے بعد سپریم کورٹ کی بلڈنگ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ یہ ایک اہم پیش رفت ہے ، کیس میں قابل اعتراض نکات کی نشاندہی کردی گئی ہے ، توقع ہے ن لیگ کی چوتھی وکٹ بھی گر جائے گی ، جبکہ بابر اعوان ایڈوکیٹ کا کہنا تھا کہ شناختی کارڈ ڈرون حملے میں مارے جانے والے صاحب کا بھی اصلی تھا اور کلبھوشن کے پاس بھی ایسے کئی غیر ملکی ہیں جو قومی شناختی کارڈ استعمال کر رہے لیکن وہ ریاستی باشندے ہی نہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…