جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

وزارت داخلہ نے 11 ہزار افراد کے نام ای سی ایل سے خارج کردیئے

datetime 10  فروری‬‮  2016 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وزارت داخلہ نے 11 ہزار افراد کے نام ای سی ایل سے خارج کردیئے۔ ای سی ایل میں14ہزار افراد کے نام شامل تھے۔ وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان کی ہدایت پر متعلقہ اداروں کے تعاون سے ایگزٹ کنٹرول لسٹ پر نظر ثانی کا کام مکمل کر لیا گیا ہے اور 11 ہزار افراد کے نام خارج کر دیئے گئے ہیں۔ اب ای سی ایل میں صرف 3 ہزار افراد کے نام شامل ہیں اور ان میں سے زیادہ تر نام اعلیٰ عدالتوں کے حکم پر شامل کئے گئے تھے۔ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کے اجلاس میں 19 غیرملکی این جی اوز کو پاکستان میں کام کرنے کی اجازت دے دی گئی۔ مذکورہ غیرملکی این جی اوز کی دستاویزات کی تصدیق خصوصی آئی این جی اور کمیٹی نے کی تھی۔ اجلاس میں سیکرٹری داخلہ‘ نیشنل کوآرڈی نیٹر نیکٹا اور وزارت داخلہ کے سینئر حکام بھی موجود تھے۔جنگ رپورٹر طاہر خلیل کے مطابق اجلاس میں یورپی یونین اور حکومت پاکستان کے درمیان ڈی پورٹیز (جبری بے دخل) پاکستانی تارکین وطن پر سمجھوتے کا خیر مقدم کیا گیا۔ وزیرداخلہ نے اس ضمن میں وزارت داخلہ کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہاکہ حکومت پاکستان نے یورپی یونین کے ملکوں میں مقیم پاکستانی تارکین وطن کی بلا تحقیق پاکستان بھیجنے کے خلاف آواز بلند کی اور معاہدہ بھی عارضی طور پر معطل کیا۔ یورپی یونین نے اب ڈی پورٹیز کے معاملے پر سمجھوتے میں کمزوریاں دور کی ہیں۔ وزیر داخلہ نے کہاکہ برسلز میٹنگ میں پاکستان اور یورپی یونین کے مابین ڈی پورٹیز کے سلسلے میں معاملات خوش اسلوبی سے طے پاگئے ہیں اور پاکستان کے تحفظات کا ازالہ کیا گیا ہے اور وزارت داخلہ اس حوالے سے نئے ایس او پی بنائے جائیں گے۔ جس سے غیر قانونی تارکین وطن کی آمدورفت اور انسانی سمگلنگ کے ازالے میں بھی مدد ملے گی۔ وزیر داخلہ نے ای سی ایل سے 11 ہزار افراد کے نام خارج کرنے کو وزار ت داخلہ کی ایک بڑی کامیابی قرار دیا اور کہا کہ نئے ایس او پی بننے کے بعد ای سی ایل کا غلط استعمال ممکن نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ نئی اور شفاف پالیسی کے تحت پسند و ناپسند یا کسی کی صوابدید پر ای سی ایل میں نام شامل نہیں کیا جاسکے گا۔ اجلاس میں پرائیویٹ سکیورٹی کمپنیز کے لئے نئے ایس او پیز کا جائزہ لیا گیا۔ وزیرداخلہ نے قواعد و ضوابط پورے نہ کرنے پر اسلام آباد کی 196 نجی سکیورٹی کمپنیوں کو نوٹس جاری کرنے کی ہدایت کی۔ ان کمپنیوں کو دفاتر‘ ملازمین کی تربیت اور دیگر معلومات فراہم کرنا ہوں گی۔ ایک ہفتے میں ضروری معلومات اور قواعد و ضوابط مکمل نہ کرنے والی نجی سکیورٹی کمپنیز کے لائسنس معطل کر دیئے جائیں گے جبکہ سکیورٹی کمپنیوں کی جائز مشکلات کا ازالہ کریںگے۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی کمپنیوں کیلئے ناگزیر ہے کہ اپنے گارڈز کو مطلوبہ ہتھیار اور تربیت فراہم کریں اور اپنے گارڈز اور ملازمین کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔



کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…