اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وزارت داخلہ نے 11 ہزار افراد کے نام ای سی ایل سے خارج کردیئے۔ ای سی ایل میں14ہزار افراد کے نام شامل تھے۔ وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان کی ہدایت پر متعلقہ اداروں کے تعاون سے ایگزٹ کنٹرول لسٹ پر نظر ثانی کا کام مکمل کر لیا گیا ہے اور 11 ہزار افراد کے نام خارج کر دیئے گئے ہیں۔ اب ای سی ایل میں صرف 3 ہزار افراد کے نام شامل ہیں اور ان میں سے زیادہ تر نام اعلیٰ عدالتوں کے حکم پر شامل کئے گئے تھے۔ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کے اجلاس میں 19 غیرملکی این جی اوز کو پاکستان میں کام کرنے کی اجازت دے دی گئی۔ مذکورہ غیرملکی این جی اوز کی دستاویزات کی تصدیق خصوصی آئی این جی اور کمیٹی نے کی تھی۔ اجلاس میں سیکرٹری داخلہ‘ نیشنل کوآرڈی نیٹر نیکٹا اور وزارت داخلہ کے سینئر حکام بھی موجود تھے۔جنگ رپورٹر طاہر خلیل کے مطابق اجلاس میں یورپی یونین اور حکومت پاکستان کے درمیان ڈی پورٹیز (جبری بے دخل) پاکستانی تارکین وطن پر سمجھوتے کا خیر مقدم کیا گیا۔ وزیرداخلہ نے اس ضمن میں وزارت داخلہ کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہاکہ حکومت پاکستان نے یورپی یونین کے ملکوں میں مقیم پاکستانی تارکین وطن کی بلا تحقیق پاکستان بھیجنے کے خلاف آواز بلند کی اور معاہدہ بھی عارضی طور پر معطل کیا۔ یورپی یونین نے اب ڈی پورٹیز کے معاملے پر سمجھوتے میں کمزوریاں دور کی ہیں۔ وزیر داخلہ نے کہاکہ برسلز میٹنگ میں پاکستان اور یورپی یونین کے مابین ڈی پورٹیز کے سلسلے میں معاملات خوش اسلوبی سے طے پاگئے ہیں اور پاکستان کے تحفظات کا ازالہ کیا گیا ہے اور وزارت داخلہ اس حوالے سے نئے ایس او پی بنائے جائیں گے۔ جس سے غیر قانونی تارکین وطن کی آمدورفت اور انسانی سمگلنگ کے ازالے میں بھی مدد ملے گی۔ وزیر داخلہ نے ای سی ایل سے 11 ہزار افراد کے نام خارج کرنے کو وزار ت داخلہ کی ایک بڑی کامیابی قرار دیا اور کہا کہ نئے ایس او پی بننے کے بعد ای سی ایل کا غلط استعمال ممکن نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ نئی اور شفاف پالیسی کے تحت پسند و ناپسند یا کسی کی صوابدید پر ای سی ایل میں نام شامل نہیں کیا جاسکے گا۔ اجلاس میں پرائیویٹ سکیورٹی کمپنیز کے لئے نئے ایس او پیز کا جائزہ لیا گیا۔ وزیرداخلہ نے قواعد و ضوابط پورے نہ کرنے پر اسلام آباد کی 196 نجی سکیورٹی کمپنیوں کو نوٹس جاری کرنے کی ہدایت کی۔ ان کمپنیوں کو دفاتر‘ ملازمین کی تربیت اور دیگر معلومات فراہم کرنا ہوں گی۔ ایک ہفتے میں ضروری معلومات اور قواعد و ضوابط مکمل نہ کرنے والی نجی سکیورٹی کمپنیز کے لائسنس معطل کر دیئے جائیں گے جبکہ سکیورٹی کمپنیوں کی جائز مشکلات کا ازالہ کریںگے۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی کمپنیوں کیلئے ناگزیر ہے کہ اپنے گارڈز کو مطلوبہ ہتھیار اور تربیت فراہم کریں اور اپنے گارڈز اور ملازمین کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔
وزارت داخلہ نے 11 ہزار افراد کے نام ای سی ایل سے خارج کردیئے
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
سیمنٹ کی قیمت میں کمی ریکارڈ، فی بوری کی نئی قیمت سامنے آگئی
-
سنت یہ بھی ہے
-
320 کلومیٹر فی گھنٹہ رفتار کے طوفان کا خطرہ، تین ممالک میں شدید تباہی کا خدشہ
-
کن کن شہروں میں بادل برسیں گے؟ محکمہ موسمیات نے بتا دیا
-
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں کمی کردی
-
نیپال میں ہلاکت خیز سیلاب کی وجہ زلزلہ نہیں بلکہ کچھ اور تھا: امریکی ادارے نے بتادیا
-
پاکستان کو 150 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار والا نیا بولر مل گیا
-
سونا سستا، فی تولہ قیمت میں بڑی کمی، عوام کیلئے بڑی خوشخبری آگئی
-
صنف تبدیل کرنے والی انایا بنگر کو خواتین کی کرکٹ کھیلنے کی اجازت مل گئی
-
بل گیٹس کی مستقبل کے بارے میں تشویشناک پیشگوئی
-
یو اے ای ملازمت کے خواہشمند پاکستانیوں کے لیے اہم خبر
-
وزیراعظم اپنا گھر پروگرام ،اپنا گھر بنانے والوں کیلئے بڑی خبر
-
کل بروز ہفتہ29اگست مقامی تعطیل کا اعلان
-
پاکستان میں فی تولہ سونے کی قیمت میں حیران کن کمی



















































