بدھ‬‮ ، 27 مئی‬‮‬‮ 2026 

زرداری کو دوست اور حکیم”کشتے“ پیش کرتے تھے،ڈاکٹر عاصم کے انکشافات

datetime 6  جنوری‬‮  2016 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)پیپلزپارٹی پارلیمنٹرین کے چیئر مین اور سابق صدر پاکستان آصف زرداری ابلے ہوئے چاول ، دال اور پالک کھاتے ہیں اس کے علاوہ غذائی اشیاءڈاکٹروں نے انہیں منع کردی ہیںکیونکہ وہ معدے کے مرض میں مبتلا ہیں یہ انکشافات انکے سابق دست راست اور ساتھی ڈاکٹر عاصم نے تحقیقاتی ٹیموں کے سامنے کئے ہیں۔ڈاکٹر عاصم کی ایسی گفتگو کو تحقیقاتی ادا ر و ں نے جے آئی ٹی میں شامل نہیں کیا کیونکہ جے آئی ٹی میں صرف غیر قانونی امور کے حوالے سے واقعات درج کئے گئے ہیں تاہم ان سے مختلف اوقات میں تفتیش کرنے والے متعدد افسران نے رابطہ کرکے غیر رسمی گفتگو کے دوران ڈاکٹر عاصم کی دوران حراست عا دات و اطوار انکی بیماری اور ذاتی مصروفیات کے حوالے سے گفتگو کی اور اس میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ آصف زرداری کو بعض حکیم اور انکے دوست اکثر و بیشتر کشتے پیش کرتے تھے مگر آصف زرداری انہیں کھاتے نہیں تھے بلکہ اس کے لئے انہوں نے ایوان صدر اور بعد ازاں بلاول ہاﺅس میں ایک بکری رکھی ہوئی تھی جسے یہ کشتے کھلاتے تھے اور بعد ازاں اس بکری کا دودھ پیتے تھے روزنامہ جنگ کے رپورٹر آغا خالد کے مطابق جبکہ ڈاکٹر عاصم کے متعلق تفتیشی افسران کا کہنا ہے کہ دوران اسیری ان پر اکثرہسٹر یائی دورے پڑتے تھے مگر ڈاکٹر ان دوروں کی حقیقت کو تسلیم کرنے کو کبھی تیار نہیں ہوئے۔ ڈاکٹر عاصم عموماً کھانے میں”بار بی کیو” پسند کرتے تھے اور جوس کی اکثر فرمائش کرتے تھے جبکہ کھانے میں وہ زیادہ تنگ نہیں کرتے تھے مگر اکثر اپنی اسیری کا ذمہ دار آصف زرداری کو قرار دیتے تھے اورکہتے تھے کہ انہوں نے آصف زردار ی کو دوران اسیری آرام پہنچانے کیلئے غلط میڈیکل رپورٹس دیکر اپنے اسپتال میں رکھا اور انہیں دنیا بھر کی سہولتیں مہیا کیں مگر وہ شکایت کرتے تھے کہ انکے برے وقت میں آصف زرداری سمیت تمام دوست ساتھ چھوڑگئے اور انہیں بے یارو مددگار چھوڑدیا (کیونکہ انہیں نہیں معلوم تھاکہ ان کی کال کوٹھڑی کے باہر کیا ہورہا ہے جبکہ آصف زرداری نے اپنے دوست کی رہائی کیلئے پوری سندھ حکومت کو داﺅ پر لگایا ہوا تھا ) جب انہیں تفتیشی افسران انکے اسپتال میں جرائم پیشہ عناصر کے علاج کے حوالے سے طعن و تشنیع کرتے تھے تو وہ کہتے تھے اس میں میرا کوئی قصور نہیں آخر کو مجھے کراچی میں رہنا تھا اور ناظم آباد میں اپنا اسپتال بھی چلانا تھا۔ ڈاکٹر عاصم اکثر و بیشتر اداس رہتے تھے اور کبھی کبھی سسکیوں سے رونے بھی لگتے تھے ایسے موقع پر تفتیشی افسران فورن ڈاکٹرکو طلب کرلیتے تھے جو انکا معائنہ کرتے اور انہیں تسلی دیتے تھے۔ڈاکٹر عاصم کا کہنا تھا کہ انہیں شوگرسمیت دل کا عارضہ ہے مگر انکے دوران اسیری کرائے گئے تمام ٹیسٹ کلیئر نکلے کسی میں بھی شوگر ظاہر نہیں ہوئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…