کوئٹہ(آن لائن) بلوچ ری پبلکن پارٹی کے سربراہ وبلوچ قوم پرست رہنماءبراہمدغ بگٹی نے کہا ہے کہ ہم نے کبھی بھی پرامن مذاکرات سے انکار نہیں کیا حکومت مخلص ہو تو اپنے مطالبات پیش کریں گے جن کے پاس اختیارات ہیں وہ ہم سے مذاکرات کیلئے آسکتے ہیں شرائط پر تب بات کریں گے جب کوئی سامنے سے ہمیں کچھ کہے مجھے نہیں لگتا حکومت سنجیدہ ہے صرف ہمیں چیک کیا جارہا ہے اپنا حق مانگنے کیلئے بلوچوں کو گھروں سے نکالا اور تشدد کیا گیا بلوچ کہی بھی ہوں مرنے کو ترجیح دے سکتا مگر غلامی کی زندگی ہر گزنہیں گزار سکتا ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایک نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مسئلہ کو ہمیشہ مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی ہے ہم سیاسی لوگ ہیں اور مسائل کا حل بھی سیاسی طریقے سے چاہتے ہیں انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں حالات ٹھیک ہوں لاپتہ افراد کا معاملہ حل ہو تو مذاکرات ہوسکتے ہیں مذاکرات کیلئے وہ آئیں جن کے پاس اختیارات ہوں ہم نے کبھی بھی مذاکرات سے انکار نہیں کیا اور نہ ہی مذاکرات سے انکار کرتے رہے بلوچستان نے نیشلسٹ رہنماء50 سال سے کوشش کررہے ہیںکہ مسائل کا حل مذاکرات سے ہوں بندوق کی نوک پر بلوچوں کو مذاکرات کی میز پرنہیں لایا جاسکتا اس وقت بلوچستان میں بلوچوں کا قتل عام جاری ہے آئے روز لوگ لاپتہ ہورہے ہیں اور بلوچ نوجوانوں کی ٹارگٹ کلنگ کی جارہی ہے ان حالات میں بلوچوں کے زخموں پر نمک کی بجائے مرہم رکھنے کی ضرورت ہے مگر مجھے اس حالات میں کوئی بھی سنجیدہ دکھائی نہیں دے رہا کہ کوئی بلوچ کے زخموں پر مرہم رکھے انہوں نے کہا کہ فی الحال پاکستان آنے کو تیار نہیں ہوں انہوں نے کہا کہ اپنا حق مانگنے کیلئے بلوچوں کو گھروں سے نکالا اور تشدد کیا گیا حکومت مخلص ہو تو اپنے مطالبات پیش کریں گے مگر شرائط تب پیش کریں گے جب سامنے ہمیں کوئی کچھ کہے مجھے نہیں لگتا کہ حکومت سنجیدہ ہے یہ صرف ہمیں چیک کرنے کی کوشش کی جارہی ہے بلوچوں کو اپنے حقوق ساحل ووسائل پر اختیار کرنے کیلئے سزا دی جارہی ہے بلوچستان میں لوگوں کا قتل عام ہو رہا ہے مذاکرات سے کبھی بھی انکار نہیں کیا میرے دادا بھی مذاکرات کے حامی تھے مگر ان کیساتھ جو کھیل کھیلا گیا دنیاجانتی ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں اس وقت پانچواں آپریشن جاری ہے ہمارے لوگوں کو مارا جارہا ہے اگر کوئی ہماری مدد کرے توہم کسی کی مدد انکار نہیں کریں گے کیونکہ حالت جنگ میں جو کوئی بھی تعاون کرے گا ہر کوئی ان کی مدد چاہئے گا انہوں نے کہا کہ حکومت سے کن شرائط پر بات کرنا ہے یہ قبل ازوقت ہے چین سے گوادرپورٹ کے حوالے سے اسلام آباد میں مذاکرات ہوتے ہیں تو کسی بھی بلوچ کو اس مذاکرات میں شامل نہیں کیا گیا انہوں نے کہا کہ اپنے حقوق کیلئے پرامن جدوجہد کرنے کی کوشش کی ہے انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں بلوچوں کیساتھ جو ہورہا ہے وہ دنیا کے کسی بھی ملک میں کسی مظلوم اور محکوم قوم کیساتھ نہیں ہوا اور نہ ہی ہو رہا ہے انہوں نے کہا کہ بلوچ غلامی کی زندگی گزارنے پر کسی صورت تیار نہیں ہیں جہاں بھی ہوں بلوچ آزاد زندگی گزارنے پر خواہاں ہے اور ہم اپنے حقوق لئے بغیر چین سے نہیں بیٹھیں گے لاہور اور پنجاب میں بیٹھ کر یہ کہنا انتہائی آسان ہے کہ بلوچستان کے حالات پرامن ہیں اگر وہاں کوئی دس دن گزارے تو اسے معلوم ہوگا کہ بلوچستان کے حالات کیسے ہیں۔
ہم نے کبھی بھی پرامن مذاکرات سے انکار نہیں کیا حکومت مخلص ہو تو اپنے مطالبات پیش کریں گے، براہمدغ بگٹی
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
اللہ سے خوش قسمتی مانگو
-
پروٹیکٹیڈ صارفین کی سبسڈی ختم کرنے کی تجویز نا منظور
-
ملک بھر میں عیدالاضحی پر گیس فراہمی کا شیڈول جاری کردیا گیا
-
جائیداد کے تنازع پر فائرنگ، باپ، تین بیٹے اور بیٹی جاں بحق
-
جسپریت بمراہ نے ٹی 20 کی تاریخ کا ناپسندیدہ اور منفرد ریکارڈ بنا لیا
-
بھانجی سے زیادتی مقدمے میں نامزد ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک
-
ثاقب چدھڑ نے مومنہ اقبال کو کیا کچھ دیا؟ ارشاد بھٹی کا بڑا دعویٰ
-
کیا تعلیمی اداروں میں موسمِ گرما کی تعطیلات 15 جون سے ہوں گی؟ طلبا کے لئے نئی خبر آگئی
-
ماہانہ 200 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کیو آر کوڈ کے ذریعے سبسڈی کیسے حاصل کریں؟ طریقہ...
-
پاکستان بھر سے اندرون اور بیرونِ ملک کی 83 پروازیں منسوخ، وجہ سامنے آگئی
-
نجی ہسپتال سے 18 سالہ نرس کی لاش برآمد
-
بھارت میں رواں ماہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں چوتھی بار اضافہ کردیاگیا
-
فریج کے بغیر قربانی کا گوشت محفوظ رکھنے کا زبردست طریقہ
-
غیرقانونی طریقے سے یورپ جانے کی خواہش، درجنوں پاکستانی ڈی پورٹ



















































