اتوار‬‮ ، 22 فروری‬‮ 2026 

ہم نے کبھی بھی پرامن مذاکرات سے انکار نہیں کیا حکومت مخلص ہو تو اپنے مطالبات پیش کریں گے، براہمدغ بگٹی

datetime 24  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

کوئٹہ(آن لائن) بلوچ ری پبلکن پارٹی کے سربراہ وبلوچ قوم پرست رہنماءبراہمدغ بگٹی نے کہا ہے کہ ہم نے کبھی بھی پرامن مذاکرات سے انکار نہیں کیا حکومت مخلص ہو تو اپنے مطالبات پیش کریں گے جن کے پاس اختیارات ہیں وہ ہم سے مذاکرات کیلئے آسکتے ہیں شرائط پر تب بات کریں گے جب کوئی سامنے سے ہمیں کچھ کہے مجھے نہیں لگتا حکومت سنجیدہ ہے صرف ہمیں چیک کیا جارہا ہے اپنا حق مانگنے کیلئے بلوچوں کو گھروں سے نکالا اور تشدد کیا گیا بلوچ کہی بھی ہوں مرنے کو ترجیح دے سکتا مگر غلامی کی زندگی ہر گزنہیں گزار سکتا ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایک نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مسئلہ کو ہمیشہ مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی ہے ہم سیاسی لوگ ہیں اور مسائل کا حل بھی سیاسی طریقے سے چاہتے ہیں انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں حالات ٹھیک ہوں لاپتہ افراد کا معاملہ حل ہو تو مذاکرات ہوسکتے ہیں مذاکرات کیلئے وہ آئیں جن کے پاس اختیارات ہوں ہم نے کبھی بھی مذاکرات سے انکار نہیں کیا اور نہ ہی مذاکرات سے انکار کرتے رہے بلوچستان نے نیشلسٹ رہنماء50 سال سے کوشش کررہے ہیںکہ مسائل کا حل مذاکرات سے ہوں بندوق کی نوک پر بلوچوں کو مذاکرات کی میز پرنہیں لایا جاسکتا اس وقت بلوچستان میں بلوچوں کا قتل عام جاری ہے آئے روز لوگ لاپتہ ہورہے ہیں اور بلوچ نوجوانوں کی ٹارگٹ کلنگ کی جارہی ہے ان حالات میں بلوچوں کے زخموں پر نمک کی بجائے مرہم رکھنے کی ضرورت ہے مگر مجھے اس حالات میں کوئی بھی سنجیدہ دکھائی نہیں دے رہا کہ کوئی بلوچ کے زخموں پر مرہم رکھے انہوں نے کہا کہ فی الحال پاکستان آنے کو تیار نہیں ہوں انہوں نے کہا کہ اپنا حق مانگنے کیلئے بلوچوں کو گھروں سے نکالا اور تشدد کیا گیا حکومت مخلص ہو تو اپنے مطالبات پیش کریں گے مگر شرائط تب پیش کریں گے جب سامنے ہمیں کوئی کچھ کہے مجھے نہیں لگتا کہ حکومت سنجیدہ ہے یہ صرف ہمیں چیک کرنے کی کوشش کی جارہی ہے بلوچوں کو اپنے حقوق ساحل ووسائل پر اختیار کرنے کیلئے سزا دی جارہی ہے بلوچستان میں لوگوں کا قتل عام ہو رہا ہے مذاکرات سے کبھی بھی انکار نہیں کیا میرے دادا بھی مذاکرات کے حامی تھے مگر ان کیساتھ جو کھیل کھیلا گیا دنیاجانتی ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں اس وقت پانچواں آپریشن جاری ہے ہمارے لوگوں کو مارا جارہا ہے اگر کوئی ہماری مدد کرے توہم کسی کی مدد انکار نہیں کریں گے کیونکہ حالت جنگ میں جو کوئی بھی تعاون کرے گا ہر کوئی ان کی مدد چاہئے گا انہوں نے کہا کہ حکومت سے کن شرائط پر بات کرنا ہے یہ قبل ازوقت ہے چین سے گوادرپورٹ کے حوالے سے اسلام آباد میں مذاکرات ہوتے ہیں تو کسی بھی بلوچ کو اس مذاکرات میں شامل نہیں کیا گیا انہوں نے کہا کہ اپنے حقوق کیلئے پرامن جدوجہد کرنے کی کوشش کی ہے انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں بلوچوں کیساتھ جو ہورہا ہے وہ دنیا کے کسی بھی ملک میں کسی مظلوم اور محکوم قوم کیساتھ نہیں ہوا اور نہ ہی ہو رہا ہے انہوں نے کہا کہ بلوچ غلامی کی زندگی گزارنے پر کسی صورت تیار نہیں ہیں جہاں بھی ہوں بلوچ آزاد زندگی گزارنے پر خواہاں ہے اور ہم اپنے حقوق لئے بغیر چین سے نہیں بیٹھیں گے لاہور اور پنجاب میں بیٹھ کر یہ کہنا انتہائی آسان ہے کہ بلوچستان کے حالات پرامن ہیں اگر وہاں کوئی دس دن گزارے تو اسے معلوم ہوگا کہ بلوچستان کے حالات کیسے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چوہے کھانا بند کریں


ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…