جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

پیرس سے ایک اور ’دھماکہ خیز بیلٹ‘ برآمد،شہر میں خوف و ہراس پھیل گیا

datetime 24  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

پیرس(نیوز ڈیسک)فرانس کے دارالحکومت پیرس میں پولیس کو دس روز قبل شہر میں ہونے والے حملوں میں استعمال ہونے والی’خودکش بیلٹ‘ سے ملتی جلتی ایک اور دھماکہ خیز بیلٹ ملی ہے۔13 نومبر کو پیرس میں متعدد خودکش دھماکوں اور فائرنگ سے 130 افراد ہلاک ہوئے تھے۔پولیس کا کہنا ہے کہ یہ بیلٹ شہر کے اس نواحی علاقے سے ملی جہاں سے حملہ آوروں کے کارروائی کے بعد گزرنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ادھر بیلجیئم میں بدستور سکیورٹی ہائی الرٹ ہے اور دارالحکومت برسلز میں منگل کو بھی سکول اور میٹرو ٹرین سروس بند رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔بیلجیئم میں حکام کو خدشہ ہے کہ وہاں بھی پیرس کی طرز پر حملے ہو سکتے ہیں۔خیال رہے کہ پیرس حملوں میں ملوث کم از کم ایک مبینہ حملہ آور صالح عبدالسلام بیلجیئم میں ہی رہائش پذیر تھا اور وہ اب مفرور ہے۔فرانسیسی پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکہ خیز مواد سے بھری بیلٹ پیر کو مونٹروج کے علاقے میں خاکروبوں کو ایک کوڑے دان سے ملی۔حکام کے مطابق یہ بیلٹ اسی طرح کی ہے جیسی 13 نومبر کے حملوں میں استعمال ہوئی جبکہ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بیلٹ کے ساتھ ڈیٹونیٹر موجود نہیں تھا۔پیرس حملوں کی تحقیق کرنے والے حکام کے مطابق موبائل ڈیٹا سے پتہ چلا ہے کہ مفرور مبینہ حملہ آور صالح عبدالسلام 13 نومبر کو اس علاقے میں تھا۔صالح کا ایک بھائی پیرس میں خودکش دھماکے کرنے والوں میں شامل تھا اور ایک خیال یہ ہے کہ صالح بھی خودکش دھماکہ کرنے کا ارادہ رکھتا تھا تاہم وہ اس منصوبے کو عملی جامہ نہیں پہنا سکا۔فرانس اور بیلجیئم دونوں ممالک میں بڑے پیمانے پر صالح عبدالسلام کی تلاش جاری ہے،بیلجیئن حکام کا کہنا ہے کہ ہائی الرٹ مزید ایک ہفتے تک رہے گا تاہم سکول اور ٹرین سروس بدھ سے کھول دی جائے گی۔ملک کے وزیرِ اعظم چارلز مچل نے عوام سے کہا ہے کہ وہ سخت ترین سکیورٹی کے باوجود معمولاتِ زندگی بحال کریں۔انھوں نے منگل کو اعلان کیا کہ برسلز میں الرٹ کا درجہ چار ہی رہے گا جبکہ بقیہ ملک میں یہ درجہ تین پر ہوگا جس کا مطلب یہ ہے کہ ملک میں حملے کا خطرہ یقینی اور ٹھوس ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ’ہم اپنے عوام سے کہہ رہے ہیں کہ وہ پرسکون اور چوکس رہیں۔‘بیلجیئم میں وفاقی پراسیکیوٹر کے مطابق اب تک چار افراد پر پیرس حملوں کے تناظر میں دہشت گردی کے الزمات کی فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔یہ چاروں لوگ ان 21 افراد میں شامل ہیں جنھیں اتوار اور پیر کو چھاپوں کے دوران پکڑا گیا تھا۔ پولیس نے حراست میں لیے گئے بقیہ 17 افراد کو رہا کر دیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…