جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

بنگلہ دیش میںبزرگ سیاستدانوں کو پھانسی ،چوہدری نثار کے صبر کاپیمانہ لبریز،کھری کھری سنادیں

datetime 22  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک)وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے بنگلہ دیش میں دو بزرگ سیاستدانوں کو پھانسی دیئے جانے پر سخت تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پھانسیوں پر عالمی انسانی حقوق کے ادارے انصاف اور دنیا کی خاموشی پر حیران ہیں  جانتے ہیں پاکستان اور بنگلہ دیش کے عوام کو قریب آنے سے کونسی طاقتیں روک رہی ہیں اور پیچھے کن عناصر کی سازشیں کار فرماءہیں ¾ انسانیت کے قتل اور پاکستانیت سے انتقام کی آگ کو ٹھنڈا ہونا چاہیے آئندہ کابینہ کے اجلاس میں مسئلہ اٹھاﺅنگا ۔ ایک بیان میں وزیر داخلہ نے کہاکہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے عوام ماضی کی تلخیاں بھلا کر دوستی اور بھائی چارے سے تعلقات آگے بڑھانا چاہتے ہیں مگر بنگلہ دیش میں ایک گروہ بنگلہ دیشی اور پاکستانی عوام میں بھائی چارے کی فضا کو بحال ہوتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا۔انہوںنے کہاکہ ہمیں اندازہ ہے کہ اس گروہ کے پیچھے کون ہے اور 1970-71کے واقعات کے پیچھے اسکا کیاکردار تھا؟ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے عوام کو قریب آنے سے کون سی طاقتیں روک رہی ہیں اور اس کے پیچھے کن عناصر کی سازشیں کارفرماءہیں؟وزیرداخلہ نے کہاکہ ایک پاکستانی ہونے کے ناطے یہ محسوس کرتا ہوں کہ جو کچھ بنگلہ دیش میں ہو رہا ہے وہ اخلاقیات ، بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی پامالی ہے انہوںنے کہاکہ حیران ہوں کہ دنیا اور بالخصوص بین الاقوامی انسانی حقوق کے ادارے انصاف کے اس قتل پر خاموش کیوں ہیں؟ انتہائی رنجیدہ ہوں کہ ہم ان لوگوں کے لئے کچھ نہ کر سکے جن کا قصور صرف اتنا ہے کہ انہوں نے آج سے 45 سال پہلے اپنے وطن پاکستان سے وفاداری نبھائی اور اس وقت کی ایک آئینی اور قانونی حکومت کا ساتھ دیا چوہدری نثار علی خان نے کہاکہ انسانیت کے قتل اور پاکستانیت سے انتقام کی آگ کو اب ٹھنڈا ہونا چاہیے۔ انہوںنے کہاکہ آئندہ کابینہ کے اجلاس میں یہ مسئلہ پھر اٹھاﺅں گا تاکہ بنگلہ دیش حکومت کے انتقام کی آگ کے آگے دیوار کھڑی کی جا سکے۔ چوہدری نثار علی خان نے کہاکہ حاسدین جو بھی کہہ لیں پاکستانی اور بنگلہ دیشی عوام کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں اور وہ دونوں برادر ممالک کو قریب سے قریب تر دیکھنا چاہتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…