جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

یکم دسمبر سے شکار پر سے 2 ماہ کے لئے پابندی اٹھانے کا فیصلہ

datetime 4  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

لاہور (آن لائن) ڈائریکٹر جنرل جنگلی حیات خالد ایاز نے کہا ہے کہ ریجنل ڈپٹی ڈائریکٹرز اور اعزازی گیم وارڈرنز سے حاصل کردہ تجاویز کی روشنی میں تیتر اور سی سی( Partridge and See See) تیتر کے شکار کے لئے یکم دسمبر2015ءسے31جنوری 2016تک دو ماہ کے لئے31 تحصیلیں کھولنے بارے اصولی فیصلہ کرلیا گیا ہے اور اس ضمن میں ایڈمنسٹریٹو ڈیپارٹمنٹ کو نوٹیفکیشن جاری کرنے بارے درخواست کردی گئی ہے- انہوں نے یہ بات گزشتہ روز یہاں شکار سیزن کے حوالے سے منعقدہ ایک خصوصی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی جس میں تمام متعلقہ افسران بھی موجودتھے- انہوں نے کہا کہ جنگلی پرندوں کے شکار کی حتمی اجازت دیتے وقت اس امر کا خصوصی طورپر خیال رکھاگیا ہے کہ شکاری تمام جنگلی پرندوں کو شکار نہ کریں تاکہ ان کی نسل کی افزائش بھی ہوتی رہے-خالد ایاز نے کہا کہ تیتر اور سی سی کے شکار کے لئے صوبہ کی 31تحصیلوں جن میں حسن ابدال اور پنڈی گھیپ، کلرسیداں اور ٹیکسلا، تلاگنگ ، پنڈدادنخان،کوٹ مومن اور بھلوال ، بھکر، خوشاب، میانوالی ، گجرات اور کھاریاں ، پھالیہ ، گوجرانولہ اور وزیر آباد، حافظ آباد ، پسرور اور ڈسکہ، ظفر وال ، مریدکے اور شرقپور، ننکانہ صاحب ، چونیاں اور پتوکی ، دیپالپور، چک جھمرہ اورسمندری، ٹوبہ ٹیک سنگھ اورگوجرہ، احمد پور سیال ،بھوانہ، چیچہ وطنی، پاکپتن، کبیر والا، میلسی ، کہروڑپکا، شجاع آباد، لیہ، مظفر گڑھ اور جتوئی اور کوٹ چٹا شامل ہیں-ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ محکمہ جنگلی حیات کی طرف سے محفوظ قراردی گئی جگہوں اورنیشنل پارکس میں ہرقسم کے شکار کی ممانعت ہوگی تاہم ڈائریکٹر جنرل کے دفتر سے جاری کئے جانے والے اجازت نامے پر گیم رینرروز میں شکار کھیلا جائے گا- انہوں نے کہا کہ تیتراور سی سی کی بیگ لمٹ ترمیمی ایکٹ 2007کے شیڈول(ون) کے مطابق ہوگی- شکار کے لئے خود کار اسلحہ ، رپیٹرگنز، گاڑیاں اور جیپ وغیرہ استعمال کرنے کی سختی سے ممانعت ہوگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…