ہفتہ‬‮ ، 21 فروری‬‮ 2026 

چترال،غذراورپاراچنارکے پہاڑوں پربرفباری، روڈ بند،زلزلہ متاثرین بیماریوں میں مبتلا ہونے لگے

datetime 4  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)زلزلہ زدہ چترال، غذر اور پارا چنار کے پہاڑوں پر برفباری، چترال گلگت روڈ بند ہو گئی ہے جس کے باعث زلزلہ متاثرین تک امداد پہنچانے کا کام معطل ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔چترال میں بارش اور برف باری کاسلسلہ جاری ہے،لینڈسلائیڈنگ سے پشاور چترال روڈ بند ہوگیا۔دیامر کے پہاڑوں پر برف باری سے سردی بڑھ گئی ہے، زلزلہ متاثرہ علاقوں میں خیمے بھیگے تو متاثرین کھلے آسمان تلے آگ جلا کر سردی بھگانے کی کوشش کرتے رہے۔زیارت کے مقام پر لینڈسلائیڈنگ اور شندور کے مقام پر 14انچ برف پڑنے کی وجہ سیچترال گلگت روڈ ٹریفک کیلئے بند کردیا گیا ہے۔گلگت بلتستان کے ضلع دیامر کے بالائی پہاڑی علاقوں بابوسر ، بٹوگا، نانگاپربت میں برف باری ہورہی ہے ، جس سے سردی کی شدت میں مزید بڑھتی جاری ہے۔ غذر میں زلزلیسے متاثرہ علاقوں میں اب تک 6 انچ سیزائدبرف پڑچکی ہے، جس سے متاثرین کی مشکلات بڑھ گئی ہیں جبکہ کرم ایجنسی کے صدر مقام پاراچنار میں وقفے وقفے سے بار ش اور پہاڑوں پر برف باری سے زلزلہ متاثرین پریشانی کا شکار ہیں۔سوات، شانگلا سمیت زلزلے سے متاثر علاقوں میں پہاڑوں پر برف باری اور میدانی علاقوں میں بارش سے سردی بڑھ گئی ہے۔ خیموں میں مقیم متاثرین سردی کے باعث مختلف بیماریوں میں مبتلا ہورہے ہیں۔پشاور میں بھی رات گئے تیز ہوا اور گرج چمک کے ساتھ بارش ہوئی، جس سے موسم مزید سرد ہوگیا،ادھرپنجاب میں چنیوٹ ، پسرور او دیگر شہروں میں ہونیوالی بارش سے موسم سرد ہوگیا ہے ، کوئٹہ میں بارش کے ساتھ ہی کئی علاقوں سے بجلی غائب ہوگئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…