ہفتہ‬‮ ، 21 فروری‬‮ 2026 

زلزلہ متاثرین کی بحالی کیلئے پاک فوج کی امدادی کارروائیاں جاری

datetime 27  اکتوبر‬‮  2015 |

ولپنڈی(آن لائن) زلزلہ متاثرین کے لئے پاک فوج کی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں اورسب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں ہیلی کاپٹرز کے ذریعے امدادی سامان روانہ کردیا گیا ہے،پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آرکے ترجمان عاصم سلیم باجوہ کے مطابق زلزلہ متاثرین کی بحالی کیلئے پاک فوج کے3 ہیلی کاپٹر استعمال کئے جارہے ہیں جس میں ایک ہیلی کاپٹر خیبر پختونخوااور2 ہیلی کاپٹر گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں امدادی کاموں میں مصروف ہیں،ترجمان نے بتایا کہ سی 130 طیارے کے ذریعے چترال کے لئے 7 ٹن راشن اورزمین کے راستے دیر کیلئے 20 ٹن راشن جس میں 10 ہزار کھانے پینے کی تیار اشیاء،ایک ہزار خیمے اور 500 کمبل روانہ کئے گئے ہیں جبکہ ڈاکٹروں کی اضافی ٹیمیں بھی بھجوا دی گئی ہیں ،خیمے اور کبل زلزلے سے متاثر ہونے والے دور دراز علاقوں میں تقسیم کئے جائیں گے،پاک فوج کی جانب سے تیمرہ گرہ ،باجوڑ ،دیر ،چترال میں خوراک کی تقسیم کیلئے26 پوائنٹس قائم کر دیئے گئے ہیں،ترجمان نے بتایا کہ ڈی جی ایف ڈبلیو او فوجیوں کے ہمراہ شاہراہ قراقرم پر موجود ہیں اور سڑکوں کو آمدو رفت کے لئے بحال کرنے کی نگرانی کر رہے ہیں جب کہ شاہراہ قراقرم پر لینڈ سلائڈنگ سے متاثرہ 45 میں سے 27 مقامات کو کلئیر کردیا گیا ہے جبکہ دیگر مقامات کی کلیئرنس کیلئے کام تیزی سے جاری ہے، ریسکیو ٹیمیں گلگت بلتستان میں پھیل چکی ہیں اور ملک بھر کے سی ایم ایچ اسپتالوں میں 30 فیصد گنجائش بڑھا دی گئی ہے۔ترجمان نے بتایا کہ زلزلہ متاثرہ علاقوں میں نقصانات کا جائزہ لینے کیلئے پاک فوج کی ٹیمیں مختلف علاقوں میں گئی ہیں،گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے متاثرہ علاقوں کا فضائی جائزہ لیا گیا ہے جس میں ڈرون طیارے بھی استعمال کیے جا رہے ہیں،ترجمان کے مطابقڈی جی ایف ڈبلیو او اس وقت قراقرم ہائی وے پر موجود ہیں، قراقرم ہائی وے پر 45 میں سے 27 جگہ پر لینڈ سلائیڈز کلیئر کر دی گئی ہیں،ملک بھر کے تمام فوجی ہسپتالوں کی گنجائش میں 30 فیصد اضافہ کر دیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…