ہفتہ‬‮ ، 21 فروری‬‮ 2026 

یغورعسکریت پسندوں کاخاتمہ کردیا،بھارت سے مزاکرات کی جلد بحالی جاہتے ہیں ،وزیردفاع

datetime 19  اکتوبر‬‮  2015 |

تعلق پاکستان اور چین کے درمیان کوئی اختلاف رائے نہیں ہے۔ چین پاکستان کی کوششوں کی حمایت کر رہا ہے۔ ایسٹ ترکستان کے خلاف لڑائی صرف چین کی نہیں ہماری اپنی جنگ ہے اور دونوں ملک مشترکہ طور پر اس گروپ کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان اور چین قریبی دوست ہیں۔ پاکستان چینی ہتھیاروں کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ فورم سے خطاب میں انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر اور فلسطین میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے اور مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کی جانب سے فلسطین اور کشمیر کے تنازعات حل کرنے کا وعدہ پورا نہیں کیا گیا جو افسوسناک ہے۔ خطے میں امن و استحکام کے حوالے سے چین کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے خواجہ محمد آصف نے کہا کہ پاکستان ہر قسم کی دہشتگردی اور دہشت گردانہ عزائم کی مذمت کرتا ہے۔پاکستان نے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں ہزاروں جانوں کی قربانی دی ہے۔ عالمی برادری گزشتہ تین عشروں کے دوران پاکستان کی قربانیوں کو تسلیم کرے۔ امن کیلئے دیگر اقدامات کے ساتھ جامع سماجی، معاشی و سیاسی پیکیج متعارف کرانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں مسلسل عدم استحکام کے سنگین اثرات مرتب ہوئے، پرامن و مستحکم افغانستان خطے کے امن و استحکام کی ضمانت ہے، امن و استحکام سے ہی اقتصادی راہداری جیسے منصوبوں کے حقیقی فوائد سامنے آ سکتے ہیں، خطے کے عوام کے بنیادی خدشات دور کرنے کی ضرورت ہے، عالمی برادری تنازعات کے بنیادی اسباب دور کرنے میں ناکام ہوگئی، افغان جنگ کے بعد پاکستان نے تیس لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کو پناہ دی ، دہشت گردی کیخلاف 60 ہزار پاکستانی شہید ہوئے، ہماری قربانیوں کو تسلیم کیا جائے۔ اربوں ڈالر معاشی نقصانات اٹھانا پڑے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کیلئے تمام تنازعات حل کرنے کی ضرورت ہے اسی لئے بھارت کے ساتھ مذاکرات کی جلد بحالی چاہتے ہیں۔ کنٹرول لائن اور ورکنگ باﺅنڈی پر کشیدگی کم کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان افغانستان میں امن و استحکام چاہتا ہے۔ خطے کے امن کیلئے افغانستان میں امن و امان ناگزیر ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ آپریشن ضرب عضب مربوط انداز میں آگے بڑھ رہا ہے اور حتمی مرحلے میں پہنچ چکا ہے۔ میرے خیال میں اب اس میں زیادہ وقت نہیں لگے گا۔ واضح رہے کہ چینی حکام نے پاکستان سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اپنی سرزمین سے یغور باغیوں کا مکمل خاتمہ کرے۔ وزیر دفاع نے دہشت گردی کی تمام صورتوں اور جہتوں کی مذمت کی اور بین الاقوامی برادری سے کہاکہ وہ خطہ میں دہشت گردی کے بنیادی اسباب کے تدارک اور ازالہ کیلئے اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔ آپریشن ضرب عضب میں پاکستانی سکیورٹی فورسز نے جو کامیابیاں حاصل کی ہیں وہ افغانستان میں بین الاقوامی افواج کی 13برسوں کی کامیابیوں سے زیادہ ہیں۔ وزیر دفاع نے کہاکہ مسلح افواج دہشت گردوں کا انفراسٹرکچر تباہ کر رہی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…