لاہور (نیوز ڈیسک) لاہورہائیکورٹ نے پیپلزپارٹی کے رہنما قاسم ضیاءکی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے رہا کرنے کاحکم دیدیا۔پیپلزپارٹی کے رہنما قاسم ضیاءکو نیب پنجاب نے 8اگست کو گرفتار کیا تھا، نیب کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا تھا کہ قاسم ضیاءنے نجی کمپنی کے ساتھ ملکر شہریوں کے ساتھ ساڑھے 8 کروڑ روپے کا فراڈ کیا تھا۔قاسم ضیاءنے منافع کا لالچ دیکر شہریوں سے رقم حاصل کی لیکن بعد میں شہریوں کی اصل رقم بھی واپس نہیں کی۔ قاسم ضیاءنے دوران تفتیش فراڈ کی رقم رضا کاروانہ طور پر واپس کرنے کے لیے نیب کو درخواست دیدی۔قاسم ضیاءنے درخواست میں کہا کہ وہ واجب الادا رقم واپس کرنے کے لیے تیار ہیں۔ نیب نے قاسم ضیاءکو 2 کروڑ 20 لاکھ روپے ادا کرنے کا کہا جسے قاسم ضیاءنے منطور کر لیا۔ دوران سماعت نیب کے وکیل نے بتایا کہ ملزم قاسم ضیاءنے فراڈ کی رقم رضا کارانہ طورپر واپس کرنے کے لیے درخواست جمع کروائی جسے منظور کر لیا گیا ہے۔ ملزم کے وکیل کا کہنا تھا کہ ابھی معاملہ کی مزید انکوائری ہو رہی ہے لہذا ضمانت منظور کی جائے۔ہائیکورٹ کے دورکنی بینچ نے ضمانت منظورکرتے ہوئے قاسم ضیاءکوایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے کے عوض رہا کرنے کا حکم جاری کر دیا
لاہور ہائیکورٹ‘ قاسم ضیاءکی درخواست ضمانت منظور، رہائی کا حکم
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
ڈرائیونگ لائسنس بنوانے کے لیے نئی شرط عائد
-
پیپلزپارٹی کے صوبائی وزیر کابینہ سے برطرف ، نوٹیفکیشن جاری
-
بجلی کا بل جمع کرانے کے حوالے سے صارفین کے لیے بڑی خبر
-
راولپنڈی؛ شوہر کو 2 بیویوں سمیت قتل کرنے کی اہم وجہ سامنے آگئی، مقدمہ درج
-
عمرے پر جانے کے خواہشمند پاکستانیوں کے لیے بڑی خبر
-
آئی فون صارفین کے لیے اچھی خبر ، ایپل نے پاکستانیوں کو خوشخبری سنا دی
-
رمضان المبارک میں ان تنظیموں کو عطیات نہ دیں، اہم ہدایات جاری
-
غزہ میں کون کون سے مسلم ممالک اپنی فورسز بھیجیں گے؛ صدر ٹرمپ نے بتادیا
-
پاکستان کے سابق فرسٹ کلاس کرکٹر اچانک حرکت قلب بند ہونے پر انتقال کر گئے
-
پاکستان تحریک انصاف کے 3 سینئر رہنمائوں کی ضمانت منظور
-
بورڈ آف پیس کا پہلا اجلاس،ترکیہ اور قطر نے بڑا اعلان کردیا
-
محکمہ موسمیات کی موسم کے حوالے سے اہم پیشگوئی
-
قومی کپتان اور ہیڈ کوچ کے درمیان تکرار، سلمان علی آغا نے غصے میں بوتل زمین پر پھینک دی
-
ویوین رچرڈز سے محبت اور بیٹی کی پیدائش کے سوال پر نینا گپتا کا دو ٹوک جواب



















































