جمعہ‬‮ ، 20 فروری‬‮ 2026 

قومی قیادت کا اجلاس؛ سانحہ بڈھ بیر کا معاملہ افغان حکومت کے سامنے اٹھانے کا اصولی فیصلہ

datetime 21  ستمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وزیراعظم نواز شریف کی زیر صدارت ملکی سلامتی سے متعلق اعلیٰ سطح کے اجلاس میں سانحہ بڈھ بیر کا معاملہ افغان حکومت کے سامنے اٹھانے کا اصولی فیصلہ کیا گیا ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق وزیراعظم نواز شریف کی زیر صدارت اسلام آباد میں اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا جس میں وزیردفاع خواجہ آصف، وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان، وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار، آرمی چیف جنرل راحیل شریف، ڈی جی آئی ایس پی آر اور ڈی جی ملٹری آپریشن سمیت اہم سیاسی و عسکری قیادت نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران ملکی سلامتی اور امن و امان کی صورت حال سمیت پشاور میں ایئرفورس کے بیس کیمپ پر ہونے والے حملے کے بعد کی صورت حال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ بڈھ بیر حملے کے شواہد اور اہم معلومات افغان حکومت کو فراہم کرتے ہوئے افغان سرحدی علاقوں سے نقل و حمل محفوظ بنانے کے لئے بارڈر مینجمنٹ سسٹم فعال کرنے کا فیصلہ کیا گیا جب کہ افغانستان کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جاری تعاون کو بڑھایا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن ضرب عضب پر بھی غور کیا گیا۔واضح رہے کہ 3 روز قبل پشاور میں ایئر فورس کے بیس کیمپ پر حملے میں ایک کیپٹن سمیت پاک فوج کے 29 اہلکار شہید جب کہ جوابی کارروائی میں 14 دہشت گرد ہلاک ہوئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…