منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

نومبر تک بیرون ملک مزید 50مشین ریڈایبل پاسپورٹ سیل کھولنے کا فیصلہ

datetime 8  اگست‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک) وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی ہدایات پر آئندہ نومبر تک بیرون ملک 50پاکستانی سفارتخانوں‘ ہائی کمیشنوں میں مشین ریڈایبل پاسپورٹ سیل کام کرنا شروع کر دینگے۔ ڈائریکٹر جنرل پاسپورٹس اینڈ امیگریشن ڈائریکٹریٹ جنرل عثمان اختر باجوہ نے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی منظوری سے پچاس سفارتی مشنوں میں نصب کرنے کیلئے کیمرے‘ بائیو میٹرک ڈیوائسز (BioMetricDevices) سرور (Servers)‘ فائروال (FireWalls) ایکوپمنٹ کی خریداری کا کام مکمل کر لیا ہے۔ مشین ریڈایبل پاسپورٹ سیل کیلئے ٹیکنیکل سٹاف پر مشتمل ٹیمیں بیرون ملک بھجوانے کا سلسلہ ڈائریکٹر جنرل عثمان اختر باجوہ نے شروع کر دیا ہے۔ اب تک 37پاکستان کے ہائی کمیشنوں‘ پاکستان کے سفارت خانوں میں مشین ریڈایبل پاسپورٹس کے سیل کام شروع کر چکے ہیں۔ روزنامہ جنگ کے معروف صحافی حنیف خالد کی رپورٹ کے مطابق دُنیا بھر میں ان ممالک میں 50نئے مشین ریڈایبل پاسپورٹس سیل 30نومبر 2015ء تک کھول دیئے جائیں گے‘ جن ممالک میں پاکستانی تارکین وطن کی تعداد زیادہ ہے اس طرح 31دسمبر 2015ء کے بعد دُنیا بھر کے ممالک میں پاکستان کے مشین ریڈایبل پاسپورٹ جاری کرنے والے 87سیل کام کرنا شروع کر دینگے۔ کم و بیش دس سالوں سے پاکستان نے مشین ریڈایبل پاسپورٹس کا میکانزم اختیار کیا۔ پاکستانیوں کو مشین ریڈایبل پاسپورٹس آج یومیہ 20ہزار ڈائر یکٹر یٹ جنرل پاسپورٹس اینڈ امیگریشن حکومت پاکستان اسلام آباد بنا رہا ہے اور پاکستانی شہریوں کو ترقی یافتہ اور مغربی ممالک سے بھی عمومی طور پر بہتر انداز اور سہولیات کے ساتھ مل رہے ہیں۔ 2000ء سے لیکر مئی 2013ء تک صرف تیس کے لگ بھگ مشین ریڈایبل پاسپورٹ سیل دوسرے ممالک میں بنائے گئے مگر نواز شریف حکومت نے صرف سوا دو سال میں تقریباً 57مشین ریڈایبل پاسپو ر ٹس اجراء کرنے کے سیل دُنیا بھر کے اُن ممالک میں کھول رہی ہے جن ممالک میں پاکستانیوں کی تعداد دسیوں ہزار ہے۔ نومبر 2015ء تک بیرون ملک مشین ریڈایبل پاسپورٹس کے 87پاکستانی سیل پاکستانی ہائی کمیشنوں‘ سفارت خانوں‘ قونصل خانوں میں پاسپورٹ کا اجراء شروع کر دینگے۔ پاکستان کے جن نئے سفارتی مشنوں میں ڈائریکٹر جنرل پاسپورٹس اینڈ امیگریشن عثمان اختر باجوہ‘ وفاقی وزیر داخلہ کی ہدایت پر مشین ریڈایبل پاسپورٹ سیل نومبر تک کھولنے کے اقدامات میں مصروف ہیں اُنکے نام یہ ہیں۔ برلن‘ انقرہ‘ بخارسٹ‘ کولمبو‘ برونائی‘ زاہدان‘ مدینہ منورہ‘ کھٹمنڈو‘ صنعاز‘ بلغراد‘ المات عطاء‘ ویانا‘ ٹوکیو‘ سراجیوو‘ کائیو‘ بشکک‘ کابل‘ جلال آباد‘ ہرات‘ قندھار‘ مزار شریف‘ ڈھاکا‘ پیانگ یانگ‘ ینگون‘ قاہرہ‘ بیروت‘ بغداد‘ دارالسلام‘ نیروبی‘ ہرارے‘ فنام فن‘ منیلا‘ بینکاک‘ باکو‘ وارسا‘ پورٹ لوئس‘ فجی۔ ان سفارتی مشنوں میں سیل تیار ہو گئے ہیں جلد کام شروع کر دینگے۔ ماسکو‘ سیول‘ بروشلز‘ لزبن‘ برنی‘ گلاسگو‘ عمان‘ جکارتہ‘ تہران‘ ولنگٹن اور ٹریپولی

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…