بدھ‬‮ ، 18 فروری‬‮ 2026 

سات سنگین الزامات ،تحریک انصاف ایک بھی الزام جوڈیشل کمیشن میں سامنے نہ لائی

datetime 4  جولائی  2015 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک) الیکشن 2013ء میں منظم دھاندلی کی تحقیقات کرنے والے انکوائری کمیشن نے اپنی سماعت مکمل کرلی ہے۔سماعتوں کے دوران مہینوں سے سنائی دینے والے 7سنگین الزامات کا اس میں کوئی ذکر نہیں ہے۔سماعت مکمل کرتے ہوئے انکوائری کمیشن نے رپورٹ جاری کرنے کا کوئی ٹائم فریم نہیں دیا ہے جو وفاقی حکومت کے لئے ایک سرکاری دستاویز ہوگی۔ ججوں کے تین رکنی پینل نے معمولی سا بھی تنازع پیدا کئے بغیرصاف اور خوبصورت طریقے سے سماعت کی۔ کسی بھی فریق کو کمیشن پر نکتہ چینی کا موقع نہیں ملا۔ تحریک انصاف کے پاس کمیشن کی سماعت شروع ہونے سے قبل احتجاجی دھرنے کے دوران لوگوں کو دکھانے کے لئے انتخابات میں وسیع پیمانے پر دھاندلی کی وسیع فہرست تھی، کمیشن کی سماعت کے دوران انتخابات کے نتائج تبدیل کرنے والوں پر غیر مہذب طریقے سے سال کے دوران کئی بار بہتان تراشی کی گئی تھی ان کا سرسری سا بھی ذکر نہیں تھا۔ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری، سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج خلیل الرحمن رمدے اور جنگ گروپ کے خلاف کمیشن کی 39 سماعتوں کے دوران کوئی بھی حوالہ نہیں دیا گیا۔ اسی طرح ایم آئی کے بریگیڈیئر، 34پنکچرز، الیکشن والے روز نواز شریف کی رات 11:23منٹ پر ہونے والی تقریر اور دھوکے سے اردو بازار لاہور سے بیلٹ پیپرز کی چھپائی کا بھی کوئی ذکر نہیں آیا۔ شعوری طورپر لگائے گئے یہ الزامات اس لئے ایک طرف رکھ دیئے گئے کیونکہ سیاسی نقصان کا احساس کئے بغیر انہیں پروپیگنڈے کے آلہ کے طور پر استعمال کیا گیا۔ سماعت کے دوران ان پر بھی کوئی بات نہیں ہوئی وجہ یہ تھی کہ ان الزامات کے خلاف معمولی سا بھی ثبوت دستیاب نہیں تھا۔ سماعتوں کے دوران پی ٹی آئی کے چار بنیادی نقاط سامنے آئے گو کہ یہ قبل ازیں پی ٹی آئی کی طرف سے سنگین الزامات میں سرفہرست نہیں تھے۔ سماعت کے دوران تحریک انصاف کے کیس کی بنیاد اضافی بیلٹ چھاپنا، پنجاب کے درجنوں انتخابی حلقوں اور دو خیبرپختونخوا کے انتخابی حلقوں میں ان کی تقسیم، فارم پندرہ کی گمشدگی اور ریٹرننگ افسروں کے کردار کے نقاط شامل تھے۔ کمیشن کی سماعت کےدوران تحریک انصاف کے وکیل عبدالحفیظ پیرزادہ ایک پیشہ ورانہ انداز میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ انتخابات میں دھاندلی کی گئی ہے۔ عمران خان کمیشن کی ہر سماعت کے بعد اپنے ہی فیصلے دیتے رہے یہ کہتے رہے کہ انہوں نے دھاندلی ثابت کردی ہے۔ یہ وہ واحد سیاست دان تھے جنہوں نے شاید ہی کمیشن کی کسی سماعت میں شرکت نہ کی ہو۔ 21 میں سے 19 سیاسی جماعتیں جو اس کیس کا حصہ تھیں، نے سماعت کے دوران کسی بھی طرح کا حصہ نہیں لیا، گواہوں سے ایک سوال تک نہ پوچھا۔ پی ٹی آئی سب سے زیادہ متحرک رہی۔ شواہد کی بنیادی ذمہ داری بھی اسی کے کندھوں پر تھی۔ تاہم یہ کوئی بھی ایسا چونکا دینے والا ثبوت پیش نہ کرسکی جو کمیشن یا دیگر کے لئے حیران کن ہوتا۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے گواہوں سے کچھ سوالات کئے مگرپی ٹی آئی کی طرح بھرپور انداز سے نہیں کئے۔ گواہوں پر جرح کے دوران اس کی شرکت بھی بہت محدود اور نیم دلانہ تھی۔ عمران خان کو توقع تھی کہ کمیشن صدارتی آرڈیننس کی اس شق کا نام لے گا جس کے تحت ملٹری انٹیلی جنس انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کرے مگر کمیشن نے ایسا کرنا مناسب خیال نہیں کیا۔ اس طرح پی ٹی آئی کے اسرار پر سیکشن 6(2) کو آرڈیننس میں شامل کیا گیا مگراس سے اسے کوئی فائدہ نہ پہنچا۔ کمیشن کی سماعت کے دوران ن لیگ کے وکیل شاہد حامد نے معلومات سے بھرپور اعداد و شمار پیش کئے۔ ان کے مطابق قومی اسمبلی کی 272 میں سے 135 نشستوں کے نتائج جوڈیشل فورم میں چیلنج نہیں کئے گئے۔137 میں سے 112 پٹیشنز مسترد کردی گئیں، 15 کی سماعت کی اجازت دی گئی جبکہ 10 اب بھی زیر التوا ہیں۔ 127 کیسز نمٹا دیئے گئے، 20 کیسز کی سپریم کورٹ میں اپیل کی گئی، ان میں سے چھ کا فیصلہ ہوگیا ہے جبکہ 14 اب بھی زیر التوا ہیں۔ اس طرح 90 فیصد نتائج حتمی ٹھہرے۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…