اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

شیخوپورہ میں مارے گئے دہشت گرد ”آئی بی“ کے دفتر پرحملہ کرناچاہتے تھے، وزیرداخلہ پنجاب

datetime 1  جولائی  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیر داخلہ پنجاب شجاع خانزادہ نے کہا ہے کہ شیخوپورہ میں مارے جانے والے دہشت گرد مال روڈ پر واقع انٹیلی جنس بیورو کے دفتر پر خود کش حملہ کرنا چاہتے تھے۔لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران وزیر داخلہ پنجاب شجاع خانزادہ نے کہا کہ شیخوپورہ میں ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی شناخت ہوگئی ہے۔ دہشت گردوں میں فیصل مبشر کا تعلق فیصل آباد، ثاقب حسین کا راول پنڈی جب کہ نعمان کا ٹانک سے ہے۔ خودکش حملہ آور کی شناخت نہیں ہوسکی، دہشت گردوں نے 5 ماہ تک افغانستان میں دہشت گردی کی
مزیدپڑھیے:شادی شدہ افراد کیلئے تشویشناک خبر،سائنس نے پول کھو ل کر بڑی مشکل میں ڈال دیا
تربیت حاصل کی تھی۔ ان کا ہدف مال روڈ پر آئی بی ہیڈ کوارٹر تھا، اس کارروائی کی منصوبہ بندی میں القاعدہ اور ان کے ممبران شامل تھے۔شجاع خانزادہ نے مزید کہا کہ دہشت گرد فیصل مبشر نے اپنے نام سے 5 ہزار روپے ماہانہ پر گھر کرائے پر لیا تھا۔ 29جون کو انٹیلی جنس اداروں نے مکان پر چھاپہ مارا، جہاں دہشت گردوں سے فائرنگ کے تبادلے میں 3 دہشت گرد ہلاک جب کہ ایک نے خود کو خودکش جیکٹ سے اڑا لیا، اس کے علاوہ 2 دہشت گردوں کو زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا، دہشت گردوں کی فائرنگ سے ایک سیکیورٹی اہلکار بھی زخمی ہوا، ان کے قبضے سے 4 خودکش جیکٹس،4 کلاشنکوف اور راکٹ لانچر برآمد ہوئے ہیں۔
مزیدپڑھیے:لوڈشیڈنگ میں روزبروزکمی آرہی ہے ،نوازشریف کادعویٰ
وزیر داخلہ پنجاب کا کہنا تھا کہ القاعدہ برصغیر کا سرغنہ بھارتی ہے، جو افغانستان میں ہے، آپریشن ضرب عضب سے بہت کامیابیاں ملی ہیں، پاکستان اورافغانستان میں دہشت گردوں کے گرد گھیرا تنگ ہوچکاہے، ملک کے انٹیلی جنس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کامیاب آپریشن کرکے دہشت گردی کا منصوبہ ناکام بنایا جس پر وہ شاباشی کے مستحق ہیں، شیخو پورہ میں کی گئی کارروائی دہشت گردوں کے لئے سبق ہے کہ ان کا خاتمہ قریب ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…