بدھ‬‮ ، 18 فروری‬‮ 2026 

بنیئے کی طرح حساب بند کرو ، پاکستان کی ٹانگیں مت توڑو ، خورشید شاہ کی حکومت پر تنقید

datetime 24  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے قومی اسمبلی اجلاس میں لوڈشیڈنگ کے معاملے پر آج بھی حکومت کوآڑے ہاتھوں لیا، ان کا کہنا تھا کہ ملک میں گرمی اور لوڈشیڈنگ کے باعث لوگ مر رہے ہیں ، وزیر بجلی لال کتاب کھول کر بیٹھ گئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے قومی اسمبلی اجلاس کے دوران کہا کہ ہم کراچی میں لوگوں کی ہلاکتوں کا رونا رو رہے ہیں اور وزیر پانی و بجلی اپنی کتاب کھول کر بیٹھ گئے ہیں ، لوگ مرنا کے الیکٹرک کا نہیں یہ پاکستان کا مسئلہ ہے ، بنیے کی طرح لال کتاب بند کر کے لوگوں کی اموات پر پر بات کریں یہ حکومت کی ذمہ داری ہے۔ خواجہ آصف کو مخاطب کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ جو لوگ بل نہیں دیتے انھیں گرفتار کریں ، نادہندگان کی حمایت نہیں کریں گے ، آپ نے کہا تھا کہ کے الیکٹرک اپنی بجلی پیدا کر سکتا ہے ، بقول آپ کے پاکستان میں 24 ہزار میگا واٹ بجلی موجود ہے جو ایک بٹن دبانے سے آ جائے گی۔ لاشوں کو پانی نہیں مل رہا اور آپ سندھ گورنمنٹ کو کہہ رہے ہیں کہ اگر اس وقت ایل این جی آ جاتی تو لوڈ شیڈنگ نہیں ہوتی ، خورشید شاہ نے کہا کہ آپ ہماری بجلی بند کر دیں ہم اپنی بجلی خود پیدا کریں گے، عابد شیر علی بچہ ہے وہ بے شک بول لے ہم برا نہیں منائیں گے۔ ملک کے کسی حصے میں بھی مرنے والا پاکستانی ہے۔ بولنا ہمارا حق ہے آپ ہمیں مار کر بھگا دیں ، پنجاب میں کتنی چوری ہو رہی ہے؟ ہم چاہتے ہیں کہ حکومت اپنے 5 سال پورے کرے۔ قوم کو یقین دلاو¿ کہ آپ کو بجلی دیں گے ، ایک دوسرے کے گریبان میں ہاتھ ڈال کر ریاستیں مضبوط نہیں ہوتیں ، آج حساب کتاب بند کرو ، مجبوریاں بتاو¿ مجبوریوں سے نکلنے کا طریقہ بتاو¿۔ خواجہ آصف نے کہا کہ لوگوں کی اموات کا تعلق بجلی سے نہیں ہے، میری ذمہ داری ہے کہ بجلی کی صورتحال واضح کروں ، کراچی کے حالات کی وفاقی حکومت ذمہ دار نہیں ہے ، سندھ کی گورننس کا مسئلہ مجھ پر ڈال دیا ہے ، میں پانی و بجلی کے شعبے کا دفاع کروں گا۔ میں نے عہدہ سنبھالتے ہوئے وعدہ نہیں کیا تھا کہ چھ ماہ میں لوڈ شیڈنگ ختم کر دوں گا ، سندھ حکومت کے ذمہ 55 ارب روپے ہیں ، میرا ملک اتنا کمزور نہیں ہے کہ دو تقریروں سے اس میں دراڑیں پڑ جائیں۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…