بدھ‬‮ ، 18 فروری‬‮ 2026 

عالمی طاقتوں سے جوہری مذاکرات کا قصہ ہی تمام ،ایران کے نئے اقدام سے دنیا حیران و پریشان

datetime 22  جون‬‮  2015 |

تہران (نیوزڈیسک)ایرانی پارلیمنٹ نے عالمی ماہرین کو فوجی تنصیبات کے معائنے، حساس دستاویزات اور سائنس دانوں تک رسائی دینے پر پابندی عائد کرنے سے متعلق ایک مسودہ قانون منظور کرلیا ہے۔پارلیمنٹ میں ہونیوالی رائے شماری کے دوران ایوان میں موجود 213 ارکان میں سے 199 نے بِل کی حمایت میں ووٹ دیا۔ اس موقع پر کئی ارکان نے ’مرگ بر امریکہ‘ کے نعرے بھی بلند کئے۔اگر یہ بل قانون کی شکل اختیار کرگیا توخدشہ ہے کہ اس کے نتیجے میں ایران اور 6عالمی طاقتوں کے درمیان جاری جوہری مذاکرات کا عمل مشکلات سے دوچار ہوسکتا ہے جو اپنے آخری مراحل میں داخل ہوچکا ہے۔ایران اور چھ عالمی طاقتوں ،امریکہ، برطانیہ، روس، چین، فرانس اور جرمنی کے نمائندے 30 جون کی ڈیڈلائن سے قبل تہران کے جوہری پروگرام پر حتمی معاہدے پر اتفاقِ رائے کےلئے سر توڑ کوششیں کر رہے ہیں۔معاہدے کا مقصد ایران کی جوہری ہتھیار تیار کرنے کی صلاحیت کو ہر ممکن حد تک محدود کرنا ہے جس کے عوض اس پر عائد اقتصادی پابندیاں اٹھائی جائیں گی۔ فریقین کے درمیان جنیوا میں مذاکرات کا آخری دور جاری ہے۔پارلیمان سے منظوری کے بعد بل کو قانون کی شکل اختیار کرنے کیلئے شورائے نگہبان کی توثیق درکار ہوگی جو ایرانی آئین کے تحت قانون سازی کا حتمی اور فیصلہ کن ادارہ ہے۔پارلیمان کی جانب سے منظور کئے جانےوالے مسودہ قانون میں ایران کے جوہری پروگرام پر عالمی طاقتوں کےساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں ایران پر عائد تمام اقتصادی پابندیوں کے خاتمے کی شق بھی شامل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔مسودہ قانون میں بین الاقوامی معائنہ کاروں کو ایران کی جوہری تنصیبات کے معائنے کی اجازت دی گئی ہے لیکن ان کی فوجی تنصیبات تک رسائی پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔مسودہ قانون میں کہا گیا ہے جوہری توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی (آئی اے ای اے) کو معاہدے میں طے کردہ شرائط و ضوابط کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے ایران کی جوہری تنصیبات کے روایتی معائنوں کی اجازت ہوگی۔لیکن عالمی ایجنسی کے معائنہ کاروں کو فوجی، ملکی سلامتی سے متعلق اور حساس نوعیت کی غیر جوہری تنصیبات، دستاویزات اور سائنس دانوں تک رسائی نہیں دی جائےگی۔عالمی طاقتوں کےساتھ مذاکرات کرنےوالے ایرانی وفد کے ارکان کا کہنا ہے کہ وہ پہلے ہی اقوامِ متحدہ کو معائنہ کاروں کو مخصوص حالات میں ایرانی فوجی تنصیبات تک رسائی دینے پر اتفاق کرچکے ہیں لیکن اس نوعیت کے معائنوں کو ایرانی اہلکار سختی سے کنٹرول کریں گے۔ایرانی اہلکاروں کے مطابق اس نوعیت کے دوروں کے دوران عالمی معائنہ کاروں کو فوجی تنصیبات کے گرد و نواح سے ماحولیاتی نمونے اکٹھے کرنے کی اجازت ہوگی۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…