اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

القاعدہ سندھ کا سربراہ کون ہے،سانحہ صفورا میں ملوث دہشتگردوں نے زبان کھول دی

datetime 22  جون‬‮  2015 |

کراچی(نیوزڈیسک)کراچی سانحہ صفورا چورنگی میں ملوث گرفتار دہشتگردوں نے سنسنی خیز انکشافات کئے ہیں۔ گرفتار دہشتگردوں نے انکشاف کیا ہے کہ عمر کاٹھیو القاعدہ سندھ کا سربراہ ہے۔کراچی میں سانحہ صفورا میں ملوث دہشتگردوں نے کئی اہم حقائق سے پردہ ہٹا دیا ہے۔ گرفتار دہشتگرد طاہر کا کہنا ہے کہ القاعدہ سندھ کا سربراہ عمر کاٹھیو کوٹری میں اس کا پڑوسی تھا۔ عمر کاٹھیو کے کہنے پر القاعدہ میں شمولیت اختیار کی۔ عمر کاٹھیو اندرون سندھ میں ہی رہتا ہے اور آج کل مفرور ہے۔ گرفتار دہشتگردوں نے انکشاف کیا ہے کہ ہر واردات کی پلاننگ فرضی نام رکھ کر کی جاتی ہے۔ واردات مکمل ہونے کے بعد دوبارہ نام تبدیل کر لیا جاتا ہے۔ گرفتار دہشتگرد طاہر نے 7 پولیس اہلکاروں، 3 بوہری برادری کے افراد اور 3 ایم کیو ایم کے کارکنوں کو قتل کرنے کا بھی اعتراف کیا ہے۔ حیدر آباد میں تمام وارداتیں سعد کے ساتھ مل کر کیں۔ گرفتار دہشتگرد کے مطابق حیدر آباد کی تمام وارداتوں میں 6 ساتھی کام کرتے تھے۔ گرفتار دہشتگرد طاہر نے اعتراف کیا کہ 2006 میں ایک ہندو لڑکے کو قتل کرکے جیل گیا تھا جس کے بعد 2009 میں باہر آ کر کمانڈر کے طور پر کام کرنا شروع کیا۔ گرفتار ملزم طاہر کا کہنا ہے کہ موجودہ گروپ کے کئی ساتھیوں کے اصل نام نہیں جانتا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…